Posts

Showing posts from August, 2025

کھیل سے خدمت کرکٹ اسٹارز کا سیلاب متاثرین کے لیے مثالی قدم.

Image
کرکٹ کے شوقین پاکستانیوں کے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ قومی ہیروز بابر اعظم، یونس خان، شاہد آفریدی اور کامران اکمل ایک نمائشی میچ میں ایک ساتھ میدان میں اتریں گے۔ تاہم، اس میچ کی اصل اہمیت اس کے مقصد میں پوشیدہ ہے — سیلاب سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت۔ "کھیل سے خدمت" کے نعرے کے تحت یہ میچ 30 اگست کو پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا، جس میں ہزاروں تماشائیوں کی آمد متوقع ہے۔ اس میچ کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام آٹھ سال بعد مکمل ہوا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا نے پشاور زلمی اور لیجنڈز الیون کے درمیان اس میچ کا اہتمام کیا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف اسٹیڈیم کو عوام کے لیے کھولا جائے گا بلکہ عوام کو ایک مثبت سماجی پیغام بھی دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ اور کابینہ اراکین کی طرف سے مہنگے ٹکٹ خرید کر تعاون دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بھی اس فلاحی مقصد کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہ میچ صرف تفریح کا موقع نہیں بلکہ ایک قومی یکجہتی کا مظہر بھی ہے۔ جب مقبول شخصیات معاشرتی بھلائی کے لیے قدم بڑھاتی ہیں تو عوام بھی ان سے متاثر ہو کر حصہ لینے کے لیے تیار ہوتے...

پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون ایک نئی جہت کی جانب پیش رفت.

Image
پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون حالیہ دنوں میں مرکزی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جب وفاقی وزیر برائے قومی خوراک و تحقیق، رانا تنویر حسین نے چین کے 20 رکنی اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ یہ وفد، جس کی قیادت یوان جیانمن کر رہے ہیں، پاکستان کے دورے پر ہے تاکہ زرعی شعبے میں باہمی اشتراک کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ وزیر موصوف نے زرعی شعبے کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے چین کے تعاون کو فیصلہ کن اہمیت کا حامل کہا، خاص طور پر موجودہ چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلی، آبی قلت اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ چین کے پاس جدید زراعت، تحقیق، اور آبپاشی کے شعبوں میں وسیع تجربہ موجود ہے، جس سے پاکستان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ وزیر نے ٹیکنالوجی، بیجوں کی بہتری، بائیوٹیکنالوجی، اور پانی بچانے والے طریقۂ کاشت جیسے شعبوں میں چینی تعاون کی امید ظاہر کی، اور ساتھ ہی دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تبادلہ پروگرام اور مشترکہ تحقیق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اگر یہ اقدامات موثر طریقے سے انجام دیے جائیں، تو پاکستان کے زرعی نظام میں دیرپا بہتری ممکن ہے۔ تاہم، اس ت...

سیلابی وارننگ انسانی ہمدردی یا معاہدے سے انحراف؟ سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں ایک نکتہ نظر

Image
بھارت کی جانب سے پاکستان کو دریائے توی میں ممکنہ سیلاب سے متعلق معلومات فراہم کرنا بظاہر ایک مثبت اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وارننگ کا تبادلہ سندھ طاس معاہدے (IWT) کے بجائے براہِ راست سفارتی چینلز کے ذریعے کیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس طرزِ عمل کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض اٹھایا، جس کے مطابق تمام آبی معلومات کا تبادلہ باقاعدہ انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے ہونا چاہیے۔ بھارت کی جانب سے IWT کو معطل کرنا، خاص طور پر پاہلگام حملے کے بعد، پہلے ہی ایک متنازعہ قدم سمجھا جا رہا ہے۔ یکطرفہ طور پر معاہدہ "معطل" کرنا بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے، اور اب سیلابی وارننگ کا سفارتی چینلز سے اجرا کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ بھارت ایک نیا معمول قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے — یعنی معاہدے کے رسمی فریم ورک کو پسِ پشت ڈال کر "انسانی بنیادوں" پر کام کرنے کا تاثر دینا۔ اس طرزِ عمل سے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا پہلے ہی سی...

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نیا باب عملی تعاون کی جانب مثبت پیش رفت.

Image
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ دو طرفہ سفارتی ملاقاتوں نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ اسحاق ڈار اور توحید حسین کے درمیان ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات ایک خوشگوار ماحول میں انجام پائی، جس میں تعلیم، تجارت، صحت، ثقافت اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا تعلقات کے لیے باقاعدہ سفارتی رابطے اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی جانب سے 500 تعلیمی وظائف، طبی امداد کی پیشکش، اور کھیلوں کے شعبے میں تعاون جیسے اقدامات نہ صرف تعلقات کو عملی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش ہیں بلکہ ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی غمازی بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح، ویزا سہولیات میں بہتری اور سمندری و فضائی روابط کی بحالی جیسے اعلانات دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نجی شعبے کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا، جو کہ معیشت کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ...

فجیرہ میں معمولی نوعیت کا زلزلہ: قدرتی مظاہر کی یاد دہانی

Image
گزشتہ جمعہ کو متحدہ عرب امارات کی امارت فجیرہ کے علاقے صفد میں 3.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) کے مطابق زلزلہ دوپہر 12 بج کر 35 منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی زمین میں تقریباً 2.3 کلومیٹر تھی۔ اگرچہ کچھ رہائشیوں نے ہلکی سی لرزش محسوس کی، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کا ملک پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ زلزلہ اگرچہ معمولی نوعیت کا تھا، لیکن ایسے قدرتی واقعات ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ فطرت کی قوت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ متحدہ عرب امارات کو عمومی طور پر زلزلوں کے خطرے سے کم ہی دوچار ہونا پڑتا ہے، تاہم زمین کی اندرونی حرکات کسی بھی وقت فعال ہو سکتی ہیں۔ اس حوالے سے نیشنل سیسمک نیٹ ورک کی نگرانی قابلِ تحسین ہے، جو ان واقعات پر بروقت اور شفاف معلومات فراہم کرتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی ایسی معلومات سے آگاہی اہمیت رکھتی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں بہتر تیاری کی جا سکے۔ حالیہ زلزلے نے کسی جانی یا مالی نقصان کا سبب نہیں بنا، جو کہ باعث اطمینان ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے، مکانات اور دفتری عمارتیں زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق تیار کی جائیں تاکہ ...

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی تعاون میں وسعت کی نئی کوشش۔

Image
پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت، جام کمال خان، بنگلہ دیش کے چار روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ان کا استقبال ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بنگلہ دیش کے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔ اس دورے کو خطے میں پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کی ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک علاقائی سطح پر نئے مواقع تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس دورے کے دوران دو طرفہ تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنے، اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر گفتگو متوقع ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان چار مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جائیں گے، جو عملی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک ٹھوس قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ یادداشتیں بروقت اور مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں، تو دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو ایک نئی جہت مل سکتی ہے۔ وزیر تجارت کی جانب سے چٹاگانگ پورٹ، ایک فارماسیوٹیکل کمپنی، اور اسٹیل پلانٹ کا دورہ اس بات ...

چین کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان نئی صف بندیوں میں پرانے تعلقات کی مضبوطی۔

Image
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا بھارت کے بعد پاکستان کا دو روزہ دورہ ایک اہم سفارتی لمحہ ہے، جو نہ صرف پاک چین اسٹریٹجک مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے ہے بلکہ خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا اشارہ بھی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض اقتصادی دائرے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے دفاعی و سیاسی تناظر میں بھی مزید مضبوط کر رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ عسکری جھڑپیں، ایران-اسرائیل کشیدگی اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری جیسے عوامل نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو ازسرنو متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کو سفارتی حمایت کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، خاص طور پر بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی میں کردار، اس تعلق کی اسٹریٹجک گہرائی کو نمایاں کرتا ہے۔ اس پس منظر میں، وانگ یی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے مستقبل کی پالیسیوں کی نئی سمت طے کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی، بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی ک...

پاکستان میں مون سون کی تباہ کاریاں: موسمیاتی چیلنج اور انسانی المیہ.

Image
پاکستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں جاری شدید مون سون بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے ایک بڑا انسانی بحران جنم دیا ہے، جس میں اب تک کم از کم 307 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جب کہ ریسکیو مشن کے دوران ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں پانچ اہلکاروں کی جان چلی گئی۔ ان افسوسناک واقعات نے نہ صرف متاثرہ علاقوں میں غم و اندوہ کی فضا قائم کی ہے، بلکہ ریاستی مشینری کی تیاری اور رسپانس سسٹم پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، پانی کی تباہ کن لہر اس قدر شدید تھی کہ زمین کانپ اٹھی اور سب کچھ "قیامت" کی مانند محسوس ہوا۔ یہ بیان نہ صرف اس آفت کی شدت کو بیان کرتا ہے بلکہ ان علاقوں کی کمزور انفرا اسٹرکچر اور تیاری کی کمی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ کئی علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے، مگر چیلنج صرف فوری امداد کا نہیں، بلکہ طویل المدتی بحالی اور خطرات کی روک تھام کا بھی ہے، جس پر وقت کے ساتھ سنجیدہ توجہ دینا ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے شدید موسم اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ صرف جولائی ...

رب ممالک کی یومِ آزادی پر مبارکبادیں: سفارتی تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی ہم آہنگی کی علامت.

Image
یومِ آزادی کے موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے پاکستان کو دی گئی مبارکبادیں نہ صرف دوستانہ جذبات کا مظہر ہیں بلکہ ان سے پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کی گہرائی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے امن و استحکام کے لیے دعاؤں اور خیرسگالی کے پیغامات نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور سلامتی خطے میں کئی ممالک کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ ان مبارکبادوں میں نمایاں طور پر باہمی تعاون، تجارتی مواقع، اور مشترکہ خوشحالی پر زور دیا گیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عرب دنیا پاکستان کو صرف ایک برادر اسلامی ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک قابلِ بھروسا اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر بھی دیکھتی ہے۔ دبئی کے برج خلیفہ پر پاکستانی پرچم کا روشن ہونا نہ صرف علامتی طور پر تعلقات کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ دونوں اقوام کے عوامی جذبات کو بھی جوڑنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اس سال یومِ آزادی پر پاکستان کی حالیہ فوجی کامیابیوں کو جس انداز میں قومی اتحاد، خوداعتمادی اور عزمِ نو کے بیانیے سے جوڑا گیا، اس نے جشنِ آزادی کو محض ایک رسمی...

پاکستان کی عسکری طاقت میں اضافہ: آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا قیام۔

Image
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں انہوں نے بتایا کہ یہ نئی فورس جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی اور دشمن کے خلاف ہر سمت سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی عسکری طاقت کو بڑھانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں تمام سیاسی جماعتوں کو "چارٹر آف اسٹیبلیٹی" میں شامل ہونے کی دعوت دی، جسے انہوں نے محض ایک معاشی منصوبہ نہیں بلکہ قومی مفادات کی بنیاد پر قائم ایک جامع فریم ورک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر اجتماعی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو اندرونی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ تقریر کے دوران وزیر اعظم نے حالیہ ہندوستان سے کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر بلا جواز حملے کیے۔ انہوں نے پاکستانی فوج کی قیادت کی تعریف کی جنہوں نے دشمن کو "تاریخی سبق" دیا اور کہا کہ چند دنو...

قومی سلامتی، نوجوانوں کی ترقی اور توانائی خودکفالت: وزیرِاعظم شہباز شریف کا ہمہ جہت مؤقف۔

Image
وزیرِاعظم شہباز شریف کا حالیہ خطاب نہ صرف قومی سلامتی کے حوالے سے ایک سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کی تعلیم اور شمالی علاقہ جات میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزی پر دی گئی وارننگ ایک جذباتی مگر قانونی مؤقف ہے، کیونکہ پانی پاکستان کی زرعی اور معاشی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، ایسے حساس معاملات میں بیانات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورمز پر فعال سفارت کاری بھی اہمیت رکھتی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، 100,000 لیپ ٹاپس کی فراہمی اور تعلیمی وظائف جیسے اقدامات نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی سنجیدہ کوشش سمجھے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ملک کی معیشت اور تحقیق کے شعبے کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ ماضی میں ایسے منصوبے تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں، اس لیے حکومت کو عملی نتائج پر توجہ دینا ہوگی نہ کہ صرف اعلانات پر۔ اسی طرح، گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو نہ صرف ماحولی...

پاکستان کا بھارتی الزامات پر مؤقف: ذمہ داری، ضبط اور جوابدہی کا پیغام۔

Image
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بھارت کی وزارت خارجہ کے حالیہ بیانات کو غیر سنجیدہ اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق، بھارت کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جو ایک پرانی روش کی عکاسی ہے جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کے خلاف ہے، اور اس کی جوہری پالیسی مکمل شہری نگرانی میں ہے۔ دفتر خارجہ نے بھارت کے "جوہری بلیک میل" کے بیانیے کو خود ساختہ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں، اور بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے بغیر ثبوت کے الزامات ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے تیسرے ممالک کو غیر ضروری طور پر شامل کرنے کی کوششوں کو پاکستان نے ایک ناکام سفارتی حربہ قرار دیا، جس سے بھارت کے اعتماد کی کمی نمایاں ہوتی ہے۔ دفتر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذ...

فواد خان اور وانی کپور کی فلم "آبیر گلال" 29 اگست کو سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

Image
فواد خان اور وانی کپور کی مشترکہ فلم *آبیر گلال* بالآخر کئی مہینوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد ریلیز کے لیے تیار ہے۔ یہ رومانوی کامیڈی فلم اصل میں 22 اپریل 2025 کو ریلیز ہونا تھی، تاہم غیر متوقع وجوہات کی بنا پر اس کی ریلیز روک دی گئی تھی۔ فلم کے عنوان میں معمولی تبدیلی کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں، اور امکان ہے کہ اس کا نام اب "آبیر گلال" کے بجائے "آبیر گلال" کے ہجے میں بدلا جائے گا۔ یہ فلم بھارت میں ریلیز نہیں کی جائے گی، کیونکہ پاکستانی فنکاروں پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔ فلم 29 اگست کو عالمی سطح پر ریلیز ہوگی، جس کا ماڈل "سردار جی 3" کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ دلجیت دوسانجھ کی اس فلم نے بھارت میں ریلیز نہ ہونے کے باوجود بیرون ملک شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی پنجابی فلم بن گئی تھی۔ *آبیر گلال* کے پروڈیوسرز اسی ماڈل کو اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی ناظرین پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یہ فلم فواد خان کی نو سال بعد بالی وڈ واپسی کا موقع بھی ہے، جسے دنیا بھر کے مداح بڑی بے صبری سے دیکھ رہے ہیں۔ فواد خان کو آخری بار 2016 میں ...

آرمینیا آذربائیجان امن معاہدے کے بعد پاکستان اور آذربائیجان کے مابین بڑھتی ہوئی علاقائی رابطہ کاری۔

Image
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطے خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، جس میں آرمینیا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد علاقائی رابطے بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوا، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنوبی قفقاز میں طویل کشیدگی کے خاتمے سے پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔ آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر و کراچی بندرگاہوں تک رسائی کی پیشکش، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی و تزویراتی تعلقات کی علامت ہیں۔ اس وقت جب پاکستان آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے، تو ایسی علاقائی شراکت داریاں معیشت میں نئی جان ڈال سکتی ہیں، بشرطیکہ ان منصوبوں پر عملی اقدامات بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کیے جائیں۔ تاہم، اس تمام تر پیش رفت کے باوجود، یہ پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آرمینیا-آذربائیجان امن کی کامیابی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ا...

خواجہ شمس الاسلام کا قتل ذاتی دشمنی، پیشہ ورانہ خطرات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آزمائش.

Image
معروف وکیل خواجہ شمس الاسلام کا دن دہاڑے قتل نہ صرف ایک ذاتی دشمنی کا نتیجہ کہا جا رہا ہے بلکہ یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی کمزوری کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ خواجہ صاحب ایک ممتاز سول لاء ایکسپرٹ تھے جنہوں نے کراچی میں قیمتی جائیدادوں کے کئی حساس مقدمات کی پیروی کی، جن میں فاطمہ جناح کی رہائش گاہ کو کالج میں تبدیل کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ان جیسے پیشہ ور فرد کو ایک عبادت گاہ کے باہر نشانہ بنایا جانا صرف ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری سماجی اور ادارہ جاتی خامی کی علامت بھی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی بنیاد ایک پرانے قتل کیس پر مبنی ذاتی دشمنی ہے، اور ملزم عمران آفریدی کو مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے والد نبی گل آفریدی کی ہلاکت کا مقدمہ 2021 میں درج ہوا تھا۔ ابتدائی شواہد، سی سی ٹی وی کی مدد سے بننے والا راستہ نقشہ اور گواہوں کے بیانات اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔ اگر یہ سچ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواجہ شمس الاسلام پر نومبر 2024 میں ہونے والے حملے کے بعد ان کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟ اس افس...

الجزائر کی توانائی میں سرمایہ کاری: پاکستان کے لیے ایک بروقت موقع.

Image
الجزائر کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی توانائی کی صنعت میں پاکستان کو سرمایہ کاری کی دعوت دینا ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان افریقی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور الجزائر کے سفیر ڈاکٹر ابراہیم رمانی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون جیسے کلیدی موضوعات پر بات چیت ہوئی۔ الجزائر کے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے میں شمولیت سے پاکستان نہ صرف اپنے تجارتی حجم میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی اور توانائی کی منتقلی کے امکانات بھی حاصل کر سکتا ہے۔ الجزائر کا جغرافیائی محلِ وقوع اور یورپ کو قدرتی گیس کی برآمد کی صلاحیت اسے خطے میں ایک اسٹریٹجک شراکت دار بناتی ہے۔ سفیر رمانی کی جانب سے پاکستانی تاجروں کے لیے متعدد داخلے والے ویزے کی سہولت ایک خوش آئند اقدام ہے، جو دونوں ممالک کے نجی شعبے کو قریب لانے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ، الجزائر میں ہونے والی پہلی INTRA-AFRICA تجارتی نمائش میں پاکستان کی شرکت سے نہ صرف افریقہ کے ساتھ روابط مضبوط ہوں گے بلکہ نئی منڈی...