قومی سلامتی، نوجوانوں کی ترقی اور توانائی خودکفالت: وزیرِاعظم شہباز شریف کا ہمہ جہت مؤقف۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کا حالیہ خطاب نہ صرف قومی سلامتی کے حوالے سے ایک سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کی تعلیم اور شمالی علاقہ جات میں توانائی بحران کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزی پر دی گئی وارننگ ایک جذباتی مگر قانونی مؤقف ہے، کیونکہ پانی پاکستان کی زرعی اور معاشی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، ایسے حساس معاملات میں بیانات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فورمز پر فعال سفارت کاری بھی اہمیت رکھتی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، 100,000 لیپ ٹاپس کی فراہمی اور تعلیمی وظائف جیسے اقدامات نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی سنجیدہ کوشش سمجھے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ملک کی معیشت اور تحقیق کے شعبے کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ ماضی میں ایسے منصوبے تنقید کی زد میں آتے رہے ہیں، اس لیے حکومت کو عملی نتائج پر توجہ دینا ہوگی نہ کہ صرف اعلانات پر۔
اسی طرح، گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ طویل لوڈشیڈنگ سے نجات کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ وقت پر اور شفاف طریقے سے مکمل ہوا تو یہ علاقائی ترقی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مددگار ہوگا۔ وزیرِاعظم کی جانب سے اس منصوبے کی ذاتی نگرانی کی ہدایت یقیناً ایک عزم کا اظہار ہے، لیکن اصل امتحان عملی عمل درآمد میں چھپا ہے۔
Comments
Post a Comment