Posts

Showing posts from March, 2026

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

Image
جب کوئی تنظیم مذہب کو ڈھال بنا کر اقتدار کی طرف بڑھتی ہے تو اس کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ سوڈان میں سوڈان میں اخوان المسلمون کی بلیک لسٹنگ کے فیصلے سے ظاہر ہوا۔ العربیہ نیوز کے مطابق، یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کا وہی پرانا سبق ہے کہ جو لوگ ریاست کو لوٹتے ہیں اور قوم کو تقسیم کرتے ہیں، بالآخر عوام خود ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ سوڈان میں اخوان المسلمون کی تاریخ کیا ہے؟ سوڈان میں اس جماعت کی تاریخ دراصل سازشوں اور جوڑ توڑ کی تاریخ ہے۔ کارنیگی انڈوومنٹ کی تحقیق کے مطابق، انہوں نے کبھی عوامی ترقی کو اپنا نصب العین نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انہیں موقع ملا، انہوں نے جمہوری اقدار کو پامال کیا اور طاقت کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۸۹ میں عمر البشیر کی بغاوت کے بعد تو یہ تنظیم برسراقتدار آگئی اور پھر تین دہائیوں تک سوڈان کا نظام انہی کی مرضی سے چلتا رہا۔ اخوان المسلمون نے سوڈان کے اداروں کو کیسے کمزور کیا؟ ان تین دہائیوں میں سوڈان کے ادارے محض نام کے رہ گئے۔ انسٹی ٹیوٹ فار سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، فوج کو کمزور کیا گیا، عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے ...

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی

Image
  ایران اسرائیل تنازع تازہ ترین صورتحال میں ایک خطرناک موڑ اس وقت آیا جب ایرانی فوج نے براہ راست متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اندر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ یہ حملے محض فوجی جارحیت نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام ہیں: ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے والی ریاستوں کو اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ ایران کی اسٹریٹجک منطق واضح ہے۔ تہران ان خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنا کر عملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن ایک غیر محفوظ سودا ہے۔ جب ایران نے بحرین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور توانائی کی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، تو وہ محض عسکری ہدف نہیں تھے بلکہ یہ پیغام تھا کہ "امن کے راستے پر چلنے والے شہری بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔" یہی وجہ ہے کہ خلیجی توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ صرف فوجی تنصیبات ہی نشانہ نہیں بنیں بلکہ شہری سہولیات جیسے ‌‌ڈی سیلینیشن پلانٹس اور ہوائی اڈے بھی حملوں کی زد میں آئے، جس سے عام شہریوں کی زندگی متاثر ہوئی اور اقتصادی استحکام کو خطرہ لاحق...

علی لاریجانی کی شہادت: امریکہ اسرائیل کا نیا وار ہیڈ یا مذاکرات کی آخری قبر؟

Image
  ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا زلزلہ لا دیا ہے۔ ۱۶ مارچ ۲۰۲۶ء کی شب جب تہران کے مشرق میں واقع پردیس کے علاقے میں ان کی صاحبزادی کی رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی تو وہاں موجود نہ صرف ایران کا سب سے تجربہ کار سفارت کار اور اسٹریٹجسٹ ہلاک ہوا بلکہ اس کے ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ مذاکراتی راستے کی آخری امید بھی دفن ہو گئی ۔ پس منظر: ایران کی قیادت کا خاتمہ ۲۸ فروری کو جب اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، تو پہلے ہی دن آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ رہنما شہید ہو گئے تھے ۔ لیکن جو چیز ایران کو اب تک بکھرنے سے بچائے ہوئے تھی، وہ علی لاریجانی کی موجودگی تھی۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ اگرچہ باضابطہ طور پر نئے رہبر اعلیٰ منتخب ہوئے، لیکن وہ خود پہلے حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ۔ ایسی صورتحال میں علی لاریجانی وہ محور تھے جن کے گرد پوری ایرانی قیادت جمع تھی۔ وہ نہ صرف خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے بلکہ انہیں پاسداران انقلاب، سفارت کاروں اور مذہبی قیادت تینوں کا اعتماد ...

طورخم سے چمن تک: پاک افغان تنازع کی انسانی داستان

Image
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری پاک افغان سرحدی تنازع نے ایک بار پھر اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ان تنازعات کی اصل قیمت وہاں رہنے والے عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ فروری ۲۰۲٦ کے آخر سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہری، خواتین اور بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف افغانستان کی سرحدی آبادیوں میں ۵٦ سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ۲٤ معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ یہ تعداد صرف وہ ہے جسے عالمی ادارے تصدیق کر سکے ہیں، حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع کی وجہ کیا ہے؟ اس تنازع کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کے مطابق، ان گروہوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت بھی یہاں کرتے ہیں ۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے جسے وہ حل کرنے ...

سوڈان: ایرانی پروکسی نیٹ ورک کی نئی کڑی یا محض اتفاق؟

Image
  سوڈان کی خانہ جنگی اور ابھرتا ہوا ایرانی سایہ: بحیرہ احمر کے استحکام کے لیے نیا خطرہ: سوڈان کی تین سالہ خانہ جنگی اب صرف اقتدار کی رسہ کشی نہیں رہی، بلکہ یہ علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک میدان جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ تہران کی حمایت یافتہ عناصر نہ صرف سوڈانی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں، بلکہ سوڈان میں ایرانی اثر و رسوخ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف ملک کی تباہی کا باعث بن رہی ہے بلکہ بحیرہ احمر جیسی عالمی تجارتی شریان کی سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں ایران کا کیا کردار ہے؟ دو ہزار تئیس میں سوڈان کی فوج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے، تہران نے پورٹ سوڈان میں موجود فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ برسوں کی کشیدگی کے بعد دو ہزار تئیس میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد، مبینہ طور پر ایران نے سوڈانی فوج کو فوجی امداد فراہم کرنا شروع کر دی، جس میں جدید ہتھیاروں اور ڈرونز کی فراہمی بھی شامل ہے ۔ اس تعاون نے فوج کو ریپ...