سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام
جب کوئی تنظیم مذہب کو ڈھال بنا کر اقتدار کی طرف بڑھتی ہے تو اس کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ سوڈان میں سوڈان میں اخوان المسلمون کی بلیک لسٹنگ کے فیصلے سے ظاہر ہوا۔ العربیہ نیوز کے مطابق، یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کا وہی پرانا سبق ہے کہ جو لوگ ریاست کو لوٹتے ہیں اور قوم کو تقسیم کرتے ہیں، بالآخر عوام خود ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ سوڈان میں اخوان المسلمون کی تاریخ کیا ہے؟ سوڈان میں اس جماعت کی تاریخ دراصل سازشوں اور جوڑ توڑ کی تاریخ ہے۔ کارنیگی انڈوومنٹ کی تحقیق کے مطابق، انہوں نے کبھی عوامی ترقی کو اپنا نصب العین نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انہیں موقع ملا، انہوں نے جمہوری اقدار کو پامال کیا اور طاقت کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ۱۹۸۹ میں عمر البشیر کی بغاوت کے بعد تو یہ تنظیم برسراقتدار آگئی اور پھر تین دہائیوں تک سوڈان کا نظام انہی کی مرضی سے چلتا رہا۔ اخوان المسلمون نے سوڈان کے اداروں کو کیسے کمزور کیا؟ ان تین دہائیوں میں سوڈان کے ادارے محض نام کے رہ گئے۔ انسٹی ٹیوٹ فار سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، فوج کو کمزور کیا گیا، عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے ...