طورخم سے چمن تک: پاک افغان تنازع کی انسانی داستان




پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری پاک افغان سرحدی تنازع نے ایک بار پھر اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ ان تنازعات کی اصل قیمت وہاں رہنے والے عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ فروری ۲۰۲٦ کے آخر سے شروع ہونے والی ان جھڑپوں میں نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہری، خواتین اور بچے لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف افغانستان کی سرحدی آبادیوں میں ۵٦ سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ۲٤ معصوم بچے بھی شامل ہیں ۔ یہ تعداد صرف وہ ہے جسے عالمی ادارے تصدیق کر سکے ہیں، حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازع کی وجہ کیا ہے؟

اس تنازع کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اسلام آباد کے مطابق، ان گروہوں کو نہ صرف پناہ دی جاتی ہے بلکہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تربیت بھی یہاں کرتے ہیں ۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے جسے وہ حل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ حالیہ کشیدگی کا آغاز پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں کابل، پکتیا اور قندھار میں مبینہ فضائی کارروائیوں سے ہوا، جس کے جواب میں افغان طالبان نے سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا ۔


افغان طالبان پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو کیوں استعمال ہونے دے رہے ہیں؟

یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔ پاکستانی قیادت کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمین پر پناہ گزین ہونے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں خبردار کیا کہ افغانستان میں ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جو نائن الیون سے بھی بدتر ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے ۔ دوسری طرف، مبصرین کا خیال ہے کہ افغان طالبان کی اپنے ملک پر گرفت مکمل نہیں ہے اور وہ شدت پسند گروپوں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتے، یا ان سے تصادم کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ۔


پاک افغان جھڑپوں میں کتنے شہری ہلاک ہوئے ہیں؟

اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک کے مطابق، فروری ۲۰۲٦ کے آخر سے اب تک ۵٦ افغان شہری ہلاک ہوئے جن میں ۲٤ بچے شامل ہیں ۔ افغان وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد ۱۱۰ سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں ٦۵ خواتین اور بچے ہیں ۔ پاکستانی حکام ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ تاہم، بی بی سی کی ٹیم نے لنڈی کوتل کے دورے میں دیکھا کہ گولہ باری سے عام شہریوں کے گھر اور دکانیں تباہ ہو رہی ہیں اور لوگ سرنگوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق تقریباً ٦٦ ہزار افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں ۔


سرحدی لڑائی سے عام لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑا ہے؟

اس اثر کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ طورخم بارڈر کے قریب لنڈی کوتل کے رہائشی فرید خان شنواری نے کو بتایا: "دن میں مکمل خاموشی ہے، لیکن جس لمحے ہم افطار پر بیٹھتے ہیں، دونوں طرف سے گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ ہم اپنا روزہ انتہائی مشکل حالات میں کھولتے ہیں، کیونکہ آپ کبھی نہیں جانتے کہ کب کوئی گولہ آپ کے گھر پر آ گرے" ۔ باچا مینہ گاؤں کے شاہ ولی اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے اہلخانہ سمیت ریلوے کی سرنگ میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں نہ روشنی کا انتظام ہے اور نہ رفع حاجت کا کوئی بندوبست ۔ یہ وہ المیہ ہے جو سرحدی جھڑپوں کی خبروں میں کبھی نہیں دکھایا جاتا۔


افغانستان کو پاکستان کے ساتھ تجارت بند ہونے سے کتنا نقصان ہوا؟

پاکستان پر افغانستان کا تجارتی انحصار بہت زیادہ ہے۔ افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق، سرحد کی بندش سے ہر ماہ تقریباً ۲۰۰ ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے ۔ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور خوراک اور ایندھن کی قلت نے سردیوں میں افغان عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے ۔ تاہم، افغان طالبان حکومت متبادل راستے تلاش کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ وزارت صنعت و تجارت کے مطابق، ایران کی چابہار بندرگاہ اور چین کے لیے واخان راہداری کو ترقی دی جا رہی ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہوا ہے ۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے راستے بند ہونے کے باوجود افغانستان کی برآمدات میں ۱۳ فیصد اضافہ ہوا ہے، جو بھارت اور ازبکستان کو برآمدات بڑھنے کی وجہ سے ممکن ہوا ۔


کیا افغانستان پاکستان پر تجارتی انحصار کم کر سکتا ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے۔ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت اسے پاکستان پر انحصار کم کرنے کے مواقع ضرور دیتی ہے، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ۔ ایران کی چابہار بندرگاہ اور واخان کوریڈور طویل المدتی منصوبے ہیں جنہیں مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ واخان راہداری میں بجری بچھانے کا ۷۰ فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، لیکن یہ سفر ابھی طویل ہے ۔ اس وقت افغان عوام شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ۱۷ ملین افغان بھوک کا سامنا کر رہے ہیں اور ۳۷ لاکھ بچے موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔ ایسے میں متبادل راستے انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتے۔


پاک افغان کشیدگی کے علاقائی اثرات کیا ہیں؟

یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں بڑی طاقتوں کے مفادات ٹکرا سکتے ہیں، خاص طور پر جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہو ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے ۔ دوسری طرف ترکی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن قطر، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اب تک ناکام رہے ہیں کیونکہ کابل دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تحریری یقین دہانی کرانے پر تیار نہیں ۔


سرحدی جھڑپوں سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کتنی ہے؟

اقوام متحدہ کے مطابق، حالیہ جھڑپوں کے باعث تقریباً ٦٦ ہزار افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں ۔ ناروے کی پناہ گزینوں کی کونسل نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کا میزائل کنڑ میں زلزلہ متاثرین کے کیمپ کے قریب گرا، جس سے ٦۵۰ خاندان دوبارہ بے گھر ہو گئے ۔ افغانستان میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ پاکستان سے واپس آنے والے افغان باشندوں کے لیے انسانی امداد بھی رک گئی ہے اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد خوراک سے محروم ہو گئے ہیں ۔


کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے؟

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح پیغام دیا ہے: "ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب کھلی جنگ ہو گی" ۔ دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر قبضے اور ڈرون مار گرانے کے دعوے کیے ہیں ۔ دونوں اطراف کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات باہمی امن اور تجارت سے جڑے ہیں۔ جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو گا، جو پہلے ہی بھوک اور بے گھری کا شکار ہیں ۔

پاک افغان سرحدی تنازع کی اصل قیمت وہ بچے ادا کر رہے ہیں جو سرنگوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، وہ مائیں جن کے بچے بھوک سے نڈھال ہیں، اور وہ تاجر جن کا کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔ سفارتی بیانات اور فوجی کارروائیوں کی خبروں میں یہ انسانی کہانیاں کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر فولکر ترک نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں اور ان لاکھوں لوگوں کی مدد کو ترجیح دیں جو انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اور عسکری قیادت اس اپیل کو سنے گی؟ یا پھر عام شہری ایک بار پھر اس تنازع کی بھینٹ چڑھ جائیں گے؟


FAQs

سوال: پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سرحدی جھڑپیں کب شروع ہوئیں؟

جواب: یہ جھڑپیں ۲٦ اور ۲۷ فروری ۲۰۲٦ کی درمیانی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغانستان کی جانب سے پاکستان کے مختلف سرحدی مقامات پر حملہ کیا گیا، جو پاکستان کے مبینہ فضائی حملوں کے جواب میں تھا ۔

سوال: پاک افغان جھڑپوں میں کتنے شہری ہلاک ہوئے ہیں؟

جواب: اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم ۵٦ افغان شہری ہلاک ہوئے جن میں ۲٤ بچے شامل ہیں ۔ افغان وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد ۱۱۰ سے تجاوز کر گئی ہے ۔

سوال: سرحدی جھڑپوں سے کتنے افراد بے گھر ہوئے ہیں؟

جواب: انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق تقریباً ٦٦ ہزار افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں ۔ پاکستانی سرحدی علاقوں میں بھی سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں ۔

سوال: سرحدی جھڑپوں کا افغانستان کی تجارت پر کیا اثر ہوا ہے؟

جواب: افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً ۲۰۰ ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔

سوال: کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ختم ہونے کے امکانات ہیں؟

جواب: ترکی، قطر اور سعودی عرب کی ثالثی کے باوجود مذاکرات ناکام رہے ہیں کیونکہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تحریری یقین دہانی کرانے پر تیار نہیں ۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی