علی لاریجانی کی شہادت: امریکہ اسرائیل کا نیا وار ہیڈ یا مذاکرات کی آخری قبر؟

 

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا زلزلہ لا دیا ہے۔ ۱۶ مارچ ۲۰۲۶ء کی شب جب تہران کے مشرق میں واقع پردیس کے علاقے میں ان کی صاحبزادی کی رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی تو وہاں موجود نہ صرف ایران کا سب سے تجربہ کار سفارت کار اور اسٹریٹجسٹ ہلاک ہوا بلکہ اس کے ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ مذاکراتی راستے کی آخری امید بھی دفن ہو گئی ۔


پس منظر: ایران کی قیادت کا خاتمہ

۲۸ فروری کو جب اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، تو پہلے ہی دن آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ رہنما شہید ہو گئے تھے ۔ لیکن جو چیز ایران کو اب تک بکھرنے سے بچائے ہوئے تھی، وہ علی لاریجانی کی موجودگی تھی۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ اگرچہ باضابطہ طور پر نئے رہبر اعلیٰ منتخب ہوئے، لیکن وہ خود پہلے حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور انہیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا ۔ ایسی صورتحال میں علی لاریجانی وہ محور تھے جن کے گرد پوری ایرانی قیادت جمع تھی۔ وہ نہ صرف خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے بلکہ انہیں پاسداران انقلاب، سفارت کاروں اور مذہبی قیادت تینوں کا اعتماد حاصل تھا۔

لاریجانی کی ہلاکت سے امریکی حکمت عملی پر سوالیہ نشان

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے لاریجانی کو ہی کیوں نشانہ بنایا؟ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں ایسی قیادت تلاش کر رہی تھی جو مذاکرات کے لیے تیار ہو ۔ لیکن جب لاریجانی، جو خود جوہری مذاکرات کے ماہر تھے اور کبھی مغرب سے بات چیت کر چکے تھے، بھی میدان جنگ میں اتر گئے اور انہوں نے سخت گیر مؤقف اختیار کر لیا، تو واشنگٹن کو اندازہ ہو گیا کہ اب نرم گوشہ تلاش کرنا بیکار ہے ۔

لاریجانی کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ فلسفے کے استاد بھی تھے اور میدان جنگ کے کمانڈر بھی۔ انہوں نے قاسم سلیمانی اور حسن نصراللہ کی شہادت کو فلسفیانہ انداز میں بیان کیا تھا کہ "تاریخ خود کو دہراتی ہے، عظیم رہنما قربان ہوتے ہیں تاکہ آزادی کے جنگجوؤں کی نئی نسل جنم لے" ۔ آج وہ خود اس قربانی کا حصہ بن گئے۔


خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز میں افراتفری

اسی تناظر میں عالمی سطح پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے ۔ ایرانی میزائلوں نے متحدہ عرب امارات میں گیس کے ایک بڑے پلانٹ کو آگ لگا دی ہے ۔ دوسری جانب بیروت کے قلب میں اسرائیلی حملوں نے پورے لبنان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نیٹو اتحادیوں پر برہم ہیں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں امریکہ کی مدد سے انکار کر دیا ہے ۔ دوسری جانب امریکی انسداد دہشتگردی کے سربراہ جو کینٹ نے استعفیٰ دے دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ "ایران سے امریکہ کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کی لابی کے دباؤ میں شروع کی گئی" ۔


ایران کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "لاریجانی کی شہادت ایران کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے، لیکن ہم 'عقل مندی اور دور اندیشی' کے ساتھ اپنی مزاحمتی راہ جاری رکھیں گے" ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب تجربہ کار قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہو، تو "عقل مندی" کی راہ کون دکھائے گا؟ علی لاریجانی کی شہادت نے ایران کو صرف ایک رہنما سے محروم نہیں کیا، بلکہ اس پوری نسل کو خیرباد کہہ دیا جو انقلاب کے بعد سفارت کاری اور دفاع کے درمیان توازن قائم رکھے ہوئے تھی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

علی لاریجانی کون تھے؟

علی لاریجانی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے۔ وہ ایران کے سابق سفیر، جوہری مذاکرات کار اور ۱۲ سال تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔ انہیں "ایران ڈی فیکٹو لیڈر" کہا جاتا تھا ۔

لاریجانی کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

۱۶ مارچ ۲۰۲۶ء کی شب تہران کے مشرق میں پردیس کے علاقے میں ان کی صاحبزادی کی رہائش گاہ پر امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی، جس میں وہ اپنے بیٹے مرتضیٰ اور باڈی گارڈز سمیت شہید ہو گئے ۔

کیا ایران بدلہ لے گا؟

ایرانی صدر پزشکیان اور آرمی چیف نے سخت انتقام کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تل ابیب پر میزائل حملے کیے گئے ہیں اور ایرانی رہنما "بے مثال طاقت" سے جواب دینے کی تیاری کر رہے ہیں ۔

لاریجانی کی ہلاکت کے بعد ایران میں مذاکرات کا امکان ہے؟

ماہرین کے مطابق لاریجانی واحد راستہ تھے جو مذاکرات کر سکتے تھے۔ ان کی موت کے بعد ایران کی قیادت مکمل طور پر سخت گیر عناصر کے ہاتھ میں چلی گئی ہے، جس سے سفارتی حل کے امکانات ختم ہو گئے ہیں ۔

اسرائیل نے لاریجانی کو کیوں نشانہ بنایا؟

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کی قیادت کا "خاتمہ" کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ لاریجانی کو ہٹانا اس لیے ضروری تھا کیونکہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے ۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی