خواجہ شمس الاسلام کا قتل ذاتی دشمنی، پیشہ ورانہ خطرات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آزمائش.
معروف وکیل خواجہ شمس الاسلام کا دن دہاڑے قتل نہ صرف ایک ذاتی دشمنی کا نتیجہ کہا جا رہا ہے بلکہ یہ واقعہ کئی پہلوؤں سے ہمارے عدالتی اور انتظامی نظام کی کمزوری کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ خواجہ صاحب ایک ممتاز سول لاء ایکسپرٹ تھے جنہوں نے کراچی میں قیمتی جائیدادوں کے کئی حساس مقدمات کی پیروی کی، جن میں فاطمہ جناح کی رہائش گاہ کو کالج میں تبدیل کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ان جیسے پیشہ ور فرد کو ایک عبادت گاہ کے باہر نشانہ بنایا جانا صرف ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری سماجی اور ادارہ جاتی خامی کی علامت بھی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی بنیاد ایک پرانے قتل کیس پر مبنی ذاتی دشمنی ہے، اور ملزم عمران آفریدی کو مرکزی کردار قرار دیا جا رہا ہے، جس کے والد نبی گل آفریدی کی ہلاکت کا مقدمہ 2021 میں درج ہوا تھا۔ ابتدائی شواہد، سی سی ٹی وی کی مدد سے بننے والا راستہ نقشہ اور گواہوں کے بیانات اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔ اگر یہ سچ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواجہ شمس الاسلام پر نومبر 2024 میں ہونے والے حملے کے بعد ان کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟
اس افسوسناک واقعے پر سندھ حکومت کی جانب سے مذمت اور فوری کارروائی کے اعلانات قابلِ تحسین ہیں، مگر بار ایسوسی ایشن کا احتجاج اور وکلاء برادری کا غصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف بیانات کافی نہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ قانون کی حکمرانی صرف کاغذوں پر قائم ہے جب تک کہ ادارے ذمہ داری سے فوری اور مؤثر کارروائی نہ کریں۔ خواجہ شمس الاسلام کا قتل محض ایک ذاتی انتقام نہیں، یہ ایک مہذب، پیشہ ور معاشرے کے لیے ایک سنگین تنبیہ ہے کہ ہمیں انصاف، سلامتی اور احتساب کے نظام میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment