آرمینیا آذربائیجان امن معاہدے کے بعد پاکستان اور آذربائیجان کے مابین بڑھتی ہوئی علاقائی رابطہ کاری۔

پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطے خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، جس میں آرمینیا کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے بعد علاقائی رابطے بڑھانے پر تبادلۂ خیال ہوا، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنوبی قفقاز میں طویل کشیدگی کے خاتمے سے پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔


آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر و کراچی بندرگاہوں تک رسائی کی پیشکش، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی و تزویراتی تعلقات کی علامت ہیں۔ اس وقت جب پاکستان آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے، تو ایسی علاقائی شراکت داریاں معیشت میں نئی جان ڈال سکتی ہیں، بشرطیکہ ان منصوبوں پر عملی اقدامات بھی اتنی ہی سنجیدگی سے کیے جائیں۔


تاہم، اس تمام تر پیش رفت کے باوجود، یہ پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آرمینیا-آذربائیجان امن کی کامیابی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا ہے اور دونوں ممالک اعتماد کی فضا قائم رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو نہ صرف قفقاز بلکہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے لیے بھی ایک مستحکم اور مربوط مستقبل ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ سفارتی، تجارتی اور علاقائی حکمتِ عملی کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اس موقع سے مکمل فائدہ اٹھائے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی