سیلابی وارننگ انسانی ہمدردی یا معاہدے سے انحراف؟ سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں ایک نکتہ نظر


بھارت کی جانب سے پاکستان کو دریائے توی میں ممکنہ سیلاب سے متعلق معلومات فراہم کرنا بظاہر ایک مثبت اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وارننگ کا تبادلہ سندھ طاس معاہدے (IWT) کے بجائے براہِ راست سفارتی چینلز کے ذریعے کیا گیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس طرزِ عمل کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض اٹھایا، جس کے مطابق تمام آبی معلومات کا تبادلہ باقاعدہ انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے ہونا چاہیے۔


بھارت کی جانب سے IWT کو معطل کرنا، خاص طور پر پاہلگام حملے کے بعد، پہلے ہی ایک متنازعہ قدم سمجھا جا رہا ہے۔ یکطرفہ طور پر معاہدہ "معطل" کرنا بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے، اور اب سیلابی وارننگ کا سفارتی چینلز سے اجرا کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ بھارت ایک نیا معمول قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے — یعنی معاہدے کے رسمی فریم ورک کو پسِ پشت ڈال کر "انسانی بنیادوں" پر کام کرنے کا تاثر دینا۔ اس طرزِ عمل سے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔


ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا پہلے ہی سیاسی تناؤ اور ماحولیاتی چیلنجز کا شکار ہے، آبی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معلومات کا تبادلہ قابلِ ستائش ہے، لیکن معاہدوں کی خلاف ورزی یا نظراندازی ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ عالمی عدالتوں کی حالیہ آراء بھی اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ کوئی بھی فریق IWT جیسے معاہدوں سے یکطرفہ طور پر پیچھے نہیں ہٹ سکتا، اس لیے خطے کے مفاد میں بہتر ہوگا کہ دونوں ممالک اعتماد، شفافیت اور قانونی فریم ورک کے تحت اپنے تعلقات کو آگے بڑھائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی