چین کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان نئی صف بندیوں میں پرانے تعلقات کی مضبوطی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا بھارت کے بعد پاکستان کا دو روزہ دورہ ایک اہم سفارتی لمحہ ہے، جو نہ صرف پاک چین اسٹریٹجک مکالمے کو آگے بڑھانے کے لیے ہے بلکہ خطے میں تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا اشارہ بھی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض اقتصادی دائرے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ اسے دفاعی و سیاسی تناظر میں بھی مزید مضبوط کر رہا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ عسکری جھڑپیں، ایران-اسرائیل کشیدگی اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری جیسے عوامل نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو ازسرنو متعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان کو سفارتی حمایت کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، خاص طور پر بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی میں کردار، اس تعلق کی اسٹریٹجک گہرائی کو نمایاں کرتا ہے۔ اس پس منظر میں، وانگ یی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے مستقبل کی پالیسیوں کی نئی سمت طے کر سکتا ہے۔
ساتھ ہی، بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششیں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر وزرا کے متوقع دورۂ ڈھاکہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب خطے میں ایسے ممالک سے بھی روابط مضبوط کرنا چاہتا ہے جہاں ماضی میں کشیدگی یا سردمہری رہی۔ چین، بنگلہ دیش اور امریکا کے ساتھ بیک وقت سفارتی سرگرمیاں ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ لگتی ہیں جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی خودمختار اور متوازن خارجہ پالیسی کا مظاہرہ ہے۔
Comments
Post a Comment