پاکستان کا بھارتی الزامات پر مؤقف: ذمہ داری، ضبط اور جوابدہی کا پیغام۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے بھارت کی وزارت خارجہ کے حالیہ بیانات کو غیر سنجیدہ اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق، بھارت کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جو ایک پرانی روش کی عکاسی ہے جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کے خلاف ہے، اور اس کی جوہری پالیسی مکمل شہری نگرانی میں ہے۔


دفتر خارجہ نے بھارت کے "جوہری بلیک میل" کے بیانیے کو خود ساختہ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہیں، اور بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے بغیر ثبوت کے الزامات ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے تیسرے ممالک کو غیر ضروری طور پر شامل کرنے کی کوششوں کو پاکستان نے ایک ناکام سفارتی حربہ قرار دیا، جس سے بھارت کے اعتماد کی کمی نمایاں ہوتی ہے۔


دفتر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور ہمیشہ تحمل و ضبط کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ تاہم، کسی بھی بھارتی جارحیت یا پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا، اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری بھارتی قیادت پر عائد ہو گی۔ اس مؤقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان، الزام تراشی کے بجائے، اصولوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو اہمیت دینے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی