محرم ۲۰۲۶: پنجاب کا سیکیورٹی پلان، کیو آر کوڈ پینک بٹن سے جدید نگرانی تک
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے محرم الحرام کے دوران صوبے بھر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع تین سطحی سیکیورٹی پلان نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ محرم کے ایام میں اپنے فرائض خود میدان میں جا کر انجام دیں اور صرف دفتری کاموں تک محدود نہ رہیں۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ محرم کے دوران امن و امان برقرار رکھنے میں حکومت کا تعاون کریں۔
کیو آر کوڈ پینک بٹن نظام کیسے کام کرے گا؟
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار امام بارگاہوں پر کیو آر کوڈ پر مبنی پینک بٹن کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذہبی اجتماعات کے منتظمین سے اپیل کی ہے کہ وہ ۴۷۰۰ امام بارگاہوں پر نصب ان پینک بٹنز کو فوری طور پر ڈاؤن لوڈ اور فعال کریں۔ حکام کے مطابق اس کوڈ کو اسکین کرتے ہی متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی ایجنسیاں فوری طور پر ہوشیار ہو جائیں گی اور بروقت کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ یہ جدید نظام ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کو یقینی بنائے گا۔
محرم کے دوران کتنے پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں؟
اجلاس میں حکام کو بتایا گیا کہ محرم کے دوران صوبے بھر میں ۴۷,۲۸۰ مذہبی اجتماعات اور جلوس ہوں گے جن میں ۳۷,۸۶۸ مجالس اور ۹,۴۱۲ جلوس شامل ہیں۔ ان تمام تقریبات کی سیکیورٹی کے لیے ۱۲۵,۶۴۱ پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ۶۱ کمپنیاں پاکستان آرمی اور ۷۶ کمپنیاں رینجرز کی بھی طلب کی گئی ہیں جبکہ ۳۰,۴۴۵ تربیت یافتہ رضاکار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کریں گے۔
محرم میں ڈرون کے استعمال پر کیوں پابندی عائد کی گئی ہے؟
سیکیورٹی انتظامات کے تحت محرم کے دوران ڈرون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی شخص ڈرون چلاتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ یہ پابندی سیکیورٹی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ آواز پھیلانے والوں کے غیر قانونی استعمال، نفرت انگیز تقاریر، دیواروں پر تشہیر اور اسلحے کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہے۔
محرم کے جلوسوں کی نگرانی کیسے کی جائے گی؟
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی محرم کے دوران جلوسوں کی براہِ راست ڈیجیٹل نگرانی کرے گی۔ اس سلسلے میں صوبے بھر میں ۵,۶۲۳ سی سی ٹی وی کیمرے فعال کیے گئے ہیں جبکہ ۱,۰۴۰ باڈی کیمرے اور جدید ڈرون میدانی نگرانی کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ انتہائی حساس مقامات پر ۱,۰۰۰ سے زائد جدید چار جی ایونٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جبکہ ۱,۴۰۰ سے زائد افسران سیف سٹی کنٹرول رومز سے چوبیس گھنٹے نگرانی کی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
Sindh CM Syed Murad Ali Shah chaired a meeting on Muharram-ul-Harram arrangements and directed all depts to ensure foolproof security, uninterrupted electricity, clean procession routes, smooth traffic management & all possible facilities for mourners. pic.twitter.com/Pyw8DNfJAS
— Peoples Friends Forum (@PeoplesFForum) June 15, 2026
محرم میں سوشل میڈیا پر نگرانی کیوں ضروری ہے؟
محرم کے دوران سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور جعلی مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سائبر سیکیورٹی فورس قائم کی گئی ہے جو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اشتراک سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرے گی۔ حکام نے ۳۵۹ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے جو مبینہ طور پر فساد پھیلانے میں ملوث ہیں، جبکہ مشتعل تقاریر اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ۷۹۴ افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور ۱,۴۱۸ افراد کا کچھ مخصوص علاقوں میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
محرم کے دوران عوام کو کیا ہدایات جاری کی گئی ہیں؟
وزیراعلیٰ نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ محرم کے دوران قوانین کی پاسداری کریں اور سیکیورٹی اداروں کا تعاون کریں۔ جلوسوں کے لیے منظور شدہ راستوں اور اوقات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی نئے جلوس یا راستے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ گرمی کی شدید لہر کے پیشِ نظر جلوسوں کے راستوں پر ٹھنڈے پانی کے اسٹالز لگائے جائیں گے جبکہ سُتھرا پنجاب اتھارٹی کو جلوسوں کے راستوں اور مذہبی اجتماعات کے مقامات پر صفائی اور خوشبو کے انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا محرم کے دوران موبائل فون سروس معطل ہوگی؟
جواب: محکمہ داخلہ کے مطابق موبائل سروس کی معطلی کا فیصلہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی صورتحال کی روشنی میں کیا جائے گا۔ ۱۱ اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز پر ایل ٹی ای کوریج فراہم کی جائے گی۔
سوال: محرم میں پلنگ رائیڈنگ پر کیا پابندی ہے؟
جواب: جی ہاں، ۹ اور ۱۰ محرم کو صوبے بھر میں پلنگ رائیڈنگ پر پابندی ہوگی تاہم بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
سوال: کیو آر کوڈ پینک بٹن کہاں نصب کیے گئے ہیں؟
جواب: یہ پینک بٹن صوبے بھر کی ۴,۷۰۰ امام بارگاہوں پر نصب کیے گئے ہیں، جسے اسکین کرنے پر سیکیورٹی ایجنسیاں فوری ہوشیار ہو جاتی ہیں۔
سوال: محرم کے دوران کتنے سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں؟
جواب: محرم کی سیکیورٹی کے لیے ۱۲۵,۶۴۱ پولیس اہلکار، ۶۱ آرمی اور ۷۶ رینجرز کمپنیاں اور ۳۰,۴۴۵ رضاکار تعینات کیے گئے ہیں۔

Comments
Post a Comment