صحرا میں ہریالی: متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت سے خوراک اور پانی کا مستقیل کیسے لکھ رہا ہے؟

 

آج متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت سے پانی اور خوراک کا تحفظ کوئی خواب نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں درجہ حرارت کا پارا اکثر ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور بارش سال میں بمشکل چند دن ہوتی ہے۔ پھر بھی، یہاں کے شہر نہ صرف سرسبز نظر آتے ہیں بلکہ دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی ہر ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ درحقیقت، متحدہ عرب امارات نے خوراک اور پانی کے بحران کو مستقل حل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم صحرا کے بیچ میں فارمز اور سمندر کی گہرائیوں میں مرجان کی چٹانوں کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔


متحدہ عرب امارات خشک صحرائی ماحول میں پانی کی کمی کو کیسے پورا کر رہا ہے؟

پانی کی قلت خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، لیکن متحدہ عرب امارات نے اس کا جواب ڈی سیلینیشن (نمکین پانی کو صاف کرنے) کے جدید پلانٹس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج میں ڈھونڈ لیا ہے۔ اے آئی سے چلنے والے سینسر بارش کے پانی کے ہر قطرے کو ذخیرہ کرنے اور زمین میں جذب ہونے سے روکنے کا کام کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ، پانی کی تقسیم کے نظام میں مصنوعی ذہانت رساؤ کو فوری شناخت کر کے ضیاع کو ۶۰ فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں، ابوظہبی میں قائم ’انٹرنیشنل سینٹر فار بائیو سی لائن ایگریکلچر‘ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کم سے کم پانی میں زیادہ سے زیادہ فصل اگانے کے طریقے تیار کر رہا ہے۔


عمودی فارمنگ کیا ہے اور یہ روایتی کھیتی سے کیسے مختلف ہے؟

عمودی فارمنگ ایک ایسا نظام ہے جس میں زمین کی بجائے اونچی عمارتوں میں ڈبوں کے اندر فصل اگائی جاتی ہے۔ دبئی میں قائم بستانیکا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا عمودی فارم ہے۔ یہاں مصنوعی ذہانت ہر پودے کی نمی، درجہ حرارت اور غذائی اجزاء کو کنٹرول کرتی ہے۔ روایتی کھیتی کے مقابلے میں یہ ٹیکنالوجی ۹۵ فیصد کم پانی استعمال کرتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقہ واقعی خوراک کے بحران کا حل ہے؟ جی ہاں، کیونکہ بستانیکا روزانہ تین ٹن سے زیادہ پتوں والی سبزیاں پیدا کرتا ہے، وہ بھی بغیر کیڑے مار ادویات کے۔


بحیرہ عرب میں مرجان کی چٹانوں کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

مرجان کی چٹانیں سمندری زندگی کا گہوارہ ہیں، لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تیزابیت کی وجہ سے یہ تیزی سے ختم ہو رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے فوژیرہ کے ساحل پر پانی کے اندر ڈرون اور مصنوعی ذہانت پر مبنی امیج ریکگنیشن کے ذریعے مرجان کی بحالی کا الگ تجربہ شروع کیا ہے۔ یہ ڈرون مرجان کی صحت کو مانیٹر کرتے ہیں اور خودکار طریقے سے نئے ٹکڑوں کو سمندر میں ’لگا‘ دیتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اگلے پانچ سال میں فوژیرہ کے ساحل پر مرجان کے نئے جنگل اگ آئیں گے، جس سے ماہی گیری کی صنعت بھی پھلے پھولے گی۔


کیا مصنوعی ذہانت صحرا میں زراعت کو ممکن بنا سکتی ہے؟

یہ سوال شاید ایک دہائی قبل فضول تھا، لیکن آج اس کا جواب ’ہاں‘ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے گرین ہاؤسز ایسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جو باہر کی گرمی کو اندر آنے سے روکتی ہے، جبکہ اے آئی مشینری نمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو فصل کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، ٹماٹر، کھیرا اور حتیٰ کہ اسٹرابیری جیسی حساس فصلیں صحرا کے بیچ میں اگائی جا رہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں خوراک کی حفاظت کے لیے یہ منصوبے اتنا کامیاب ہوئے ہیں کہ اب سعودی عرب اور قطر بھی یہی ٹیکنالوجی درآمد کر رہے ہیں۔


مستقبل میں ٹیکنالوجی پانی کے بحران کا مستقل حل فراہم کر سکتی ہے؟

ماہرین کے مطابق، اگر مصنوعی ذہانت اور ڈی سیلینیشن کی لاگت مزید کم ہو جائے تو مستقبل میں کوئی بھی ملک پانی کی قلت کا شکار نہیں ہو گا۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی ’محمد بن راشد آل مکتوم گلوبل سینٹر فار واٹر سیکیورٹی‘ کے تحت ایسی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے جو سمندر سے پانی نکالنے کے بعد اسے کھیتی کے قابل بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، بادل بونے (کلاؤڈ سیڈنگ) کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بارش کو مصنوعی طور پر بڑھایا جا سکے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

س: متحدہ عرب امارات میں پانی کی بچت کے لیے سب سے مؤثر ٹیکنالوجی کون سی ہے؟

ج: جدید ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سمارٹ ایریگیشن سسٹم سب سے مؤثر ہیں، جو ۶۰ فیصد تک پانی کے ضیاع کو روکتے ہیں۔

س: کیا بستانیکا کے عمودی فارم سے حاصل شدہ سبزیاں کھانے کے لیے محفوظ ہیں؟

ج: جی ہاں، یہ سبزیاں مکمل طور پر نامیاتی اور کیڑے مار ادویات سے پاک ہوتی ہیں، کیونکہ یہ کنٹرول شدہ ماحول میں اگائی جاتی ہیں۔

س: مرجان کی بحالی میں عام آدمی کیا مدد کر سکتا ہے؟

ج: سمندر میں کیمیکلز کے اخراج سے بچنا اور ساحل کی صفائی میں حصہ لینا سب سے بڑی مدد ہے۔

س: کیا متحدہ عرب امارات کی یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے؟

ج: بلکل، خاص طور پر تھرپارکر اور چولستان جیسے خشک علاقوں میں عمودی فارمنگ اور ڈرپ ایریگیشن بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

س: مصنوعی ذہانت خوراک کا ذائقہ متاثر تو نہیں کرتی؟

ج: نہیں، درحقیقت اے آئی کی مدد سے پودوں کو بالکل وہی غذائی اجزاء ملتے ہیں جن کی انہیں ضرورت ہوتی ہے، جس سے ذائقہ بہتر ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی