خلیجی ممالک کے اصل عزائم: ایران، ابراہیم معاہدے اور نئی عالمی حقیقت


مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ خلیجی ممالک کے اصل عزائم کو سمجھنا آج کے عالمی امن کے لیے نہایت ضروری ہے۔ فروری ۲۰۲۶ میں شروع ہونے والی ایران-اسرائیل جنگ نے اس خطے کی پرانی سیاست کو نیست و نابود کر دیا ہے ۔ خلیجی ممالک اب وہ خاموش مبصر نہیں رہے جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان توازن قائم کیے ہوئے تھے، بلکہ وہ اب خود اس کھیل کے مرکزی کھلاڑی بن چکے ہیں۔

کیا ایرانی عوام اور حکومت میں فرق خلیجی پالیسی کی بنیاد ہے؟

یہ سوال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیجی حکمران طویل عرصے سے سمجھتے ہیں کہ ایران کا مسئلہ اس کی بنیاد پرست حکومت ہے، نہ کہ اس کے عوام۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی حکمت عملی ایرانی عوام کو مخاطب کرنے اور انہیں حکومت کی غلط پالیسیوں سے الگ کرنے پر مبنی ہے۔ خیال ہے کہ اگر ایرانی حکومت تبدیل ہوتی ہے یا اس کے عزائم محدود ہوتے ہیں تو عوام کے ساتھ معاشی تعاون کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ درحقیقت، خلیجی سرمایہ ایرانی مارکیٹ سے اس وقت تک دور رہے گا جب تک وہاں کا نظام غیر یقینی اور خطرناک بنا رہے گا۔

کیا ابراہیم معاہدے خلیجی دفاع کی نئی روح ہیں؟

ابراہیم معاہدے اب صرف تجارتی اور سفارتی معاہدے نہیں رہے۔ یہ معاہدے ایک مکمل فوجی اتحاد میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں جب ایرانی میزائل اور ڈرون خلیجی فضاؤں میں داخل ہوئے تو اسرائیل نے اپنے "آئرن ڈوم" نظام متحدہ عرب امارات کی حفاظت کے لیے تعینات کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب خلیجی ممالک کو یقین ہو گیا کہ عرب لیگ کی زبانی حمایت کے بجائے اسرائیلی ٹیکنالوجی اور طاقت ان کا اصل تحفظ ہے ۔ ان معاہدوں نے خلیجی ممالک کو جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور سیٹلائٹ دفاعی نظام فراہم کیے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے کن شرائط پر علیحدگی اختیار کی؟

متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی ممالک اب اجتماعی سلامتی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ جب آبنائے ہرمز بند ہوئی تو خلیجی تعاون کونسل اپنے رکن ممالک کی بندرگاہوں کو ایرانی حملوں سے نہ بچا سکی۔ ابوظہبی کا موقف واضح ہے: ہم اپنی معاشی خودمختاری کو ترجیح دیں گے۔ ۱۵۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد جب آپ کی پیداواری صلاحیت ۵ ملین بیرل یومیہ ہو، تو کسی کارٹل کی پابندیاں قبول کرنا دانشمندی نہیں ۔ یہ علیحدگی دراصل ایران کے خلاف معاشی محاذ کی توسیع ہے۔

کیا خلیجی نوجوان واقعی جنگ چاہتے ہیں یا مواقع؟

یہاں پر ایک اہم موڑ آتا ہے۔ خلیجی ممالک کے اصل عزائم کا دارومدار ان کی نوجوان نسل پر ہے۔ ۷۰ فیصد سے زائد خلیجی آبادی ۳۰ سال سے کم عمر ہے۔ یہ نسل ایران کے ساتھ مذہبی جنگوں یا پرانی دشمنیوں میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ یہ نسل ملازمتوں، سیاحت، مصنوعی ذہانت اور جدید تعلیم کے مواقع چاہتی ہے ۔ اسی لیے خلیجی حکمران ایرانی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بھی ایرانی عوام کے ساتھ پلوں کی تعمیر چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ خطے میں کمپیوٹر سائنس کی لیبز بنیں، ایٹمی تنصیبات نہیں۔

سوالاتِ عامہ

سوال: خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اصل تنازعہ کیا ہے؟
جواب: اصل تنازعہ ایرانی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا ہے، نہ کہ ایرانی عوام سے۔ خلیجی ممالک کو ایرانی میزائل پروگرام، پراکسی نیٹورک اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

سوال: کیا ابراہیم معاہدے صرف معاشی معاہدے تھے؟
جواب: نہیں، اب یہ معاہدے ایک مکمل دفاعی اتحاد بن چکے ہیں۔ اسرائیل نے خلیجی ممالک کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کیے ہیں اور مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا نیٹورک قائم کیا گیا ہے۔

سوال: متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے کیوں علیحدگی اختیار کی؟
جواب: اپنی معاشی خودمختاری اور توانائی کی پالیسی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے۔ متحدہ عرب امارات اپنی ۵ ملین بیرل یومیہ کی پیداواری صلاحیت کو قومی مفاد کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے۔

سوال: کیا خلیجی نوجوان جنگ کی حمایت کرتے ہیں؟
جواب: نہیں، خلیجی نوجوانوں کی اکثریت تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی اور سیاحت کے مواقع چاہتی ہے۔ وہ استحکام اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں، نہ کہ پرانی مذہبی یا نسلی دشمنیوں کو۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

صحرا میں ہریالی: متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت سے خوراک اور پانی کا مستقیل کیسے لکھ رہا ہے؟