پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ کے لیے ویزا ختم کرنے کا تاریخی معاہدہ
روم میں منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزا ختم کرنے کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے پر پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کے سیکریٹری جنرل خارجہ امور ریکارڈو گوارگلیا نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور دوستی کی واضح علامت ہے۔
سفارتی پاسپورٹ پر ویزا ختم ہونے سے کیا فائدے ہوں گے؟
اس اہم اقدام کے نتیجے میں دونوں ممالک کے سفارتی حکام اب بغیر ویزا کے آسانی سے سفر کر سکیں گے۔ اس سے سفارتی وفود کے تبادلے ہموار ہوں گے اور اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں زیادہ مؤثر طریقے سے ہو سکیں گی۔ درحقیقت، یہ قدم دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک مثبت اضافہ ہے جس سے باہمی رابطوں میں مزید تیزی آئے گی۔
کیا یہ معاہدہ عام شہریوں کے لیے بھی ویزا آسان کرے گا؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سہولت عام شہریوں کو بھی ملے گی؟ فی الحال، یہ معاہدہ صرف سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں تک محدود ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اس طرح کے اعلیٰ سطحی معاہدے مستقبل میں عام شہریوں کے لیے ویزا کے حصول کے عمل کو آسان بنانے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مزدوروں کی نقل و حرکت کے حوالے سے پہلے ہی معاہدے موجود ہیں، جس کے تحت اطالوی مارکیٹ میں پاکستانی کارکنوں کے لیے ۱۰,۵۰۰ نوکریوں کی مخصوص کوٹہ موجود ہے۔
Signing Ceremony : Agreement for Abolition of Visa on Diplomatic Passports between Pakistan & Italy pic.twitter.com/PTBxyb1jcT
— Pakistan Embassy Italy (@PakinItaly) June 2, 2026
پاکستان اور اٹلی کے تعلقات کی موجودہ حالت کیا ہے؟
پاکستان اور اٹلی کے تعلقات صرف ویزا معاہدوں تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ۷۵ سال سے زائد عرصے سے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک نے دفاع، سیاحت، سائنس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ۱۵ سے زائد معاہدے اور ۲۱ مفاہمت نامے طے کیے ہیں۔ اٹلی نے اسلام آباد میں اپنا سب سے بڑا سفارتی مشن تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اٹلی میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد کتنی ہے؟
اطالیہ میں پاکستانی باشندوں کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ یہ بڑی تعداد دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ اٹلی میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں ۲۰۲۵ میں ۱۵,۰۰۰ سے زائد طلبہ نے اطالوی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا۔
پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیگر معاہدے کون سے ہیں؟
یہ ویزا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے دیگر معاہدوں کی طرح ایک سنگ میل ہے۔ اس سے قبل ۱۹۷۲ میں حوالگی کا معاہدہ، ۱۹۸۳ میں دوہری شہریت کا معاہدہ، اور ۲۰۰۹ میں دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پایا۔ ان معاہدوں نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا عام پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی ویزا سے استثنیٰ ملے گا؟
جواب: نہیں، یہ سہولت فی الحال صرف سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افسران اور حکام کے لیے مختص ہے۔
سوال: یہ معاہدہ کب سے نافذ العمل ہوگا؟
جواب: معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور یہ جلد ہی دونوں ممالک کی جانب سے قانونی منظوریوں کے بعد رسمی طور پر لاگو کر دیا جائے گا۔
سوال: کیا اس معاہدے سے تجارت پر کوئی اثر پڑے گا؟
جواب: بالکل، سفارتی وفود کی آمد و رفت آسان ہونے سے کاروباری وفود کے تبادلے میں بھی سہولت ہوگی جس سے تجارت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
سوال: کیا یہ پاکستان کا یورپ کے کسی ملک کے ساتھ پہلا ویزا معاہدہ ہے؟
جواب: پاکستان کا یورپی یونین کے مختلف ممالک کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاہدے ہیں، لیکن یہ سفارتی پاسپورٹ کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے۔
Comments
Post a Comment