مصنوعی ذہانت میں امارات کی عالمی قیادت: خوشحالی کا نیا معیار
متحدہ عرب امارات نے آج مصنوعی ذہانت میں عالمی قیادت کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی اکنامکس انسٹی ٹیوٹ کی ۲۰۲۶ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، امارات میں کام کرنے والی عمر کی ۷۰.۱ فیصد آبادی باقاعدگی سے مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کر رہی ہے ۔ یہ شرح عالمی اوسط ۱۷.۸ فیصد سے چار گنا زیادہ ہے اور اس اعتبار سے امارات سنگاپور (۶۳ فیصد)، ناروے، آئرلینڈ اور فرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک سے بھی آگے نکل گیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ آخر اتنی بڑی کامیابی کیوں اور کیسے ممکن ہوئی؟ جواب امارات کی دور اندیش قیادت، بروقت منصوبہ بندی اور مصنوعی ذہانت کو معاشی ترقی کا محور بنانے کی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں امارات دنیا میں پہلے نمبر پر کیوں ہے؟
امارات کی یہ کامیابی اتفاقی نہیں بلکہ برسوں کی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ جہاں امریکہ جیسا ملک اے آئی ایجادات میں سرفہرست ہے وہیں اسے اپنانے میں وہ ۲۱ویں نمبر پر ہے ۔ لیکن امارات نے الگ راستہ اپنایا۔
امارات نے مصنوعی ذہانت کو عوام کی زندگیوں کا حصہ بنانے پر توجہ دی ہے۔ ڈاکٹر سلطان الجابر کے مطابق، "اقتصادی ترقی کی کنجی ٹیکنالوجی کو عوام تک پہنچانا ہے، نہ کہ صرف لیبارٹریوں تک محدود رکھنا۔"
درحقیقت، امارات کی کامیابی کی تین بڑی وجوہات ہیں: پہلی، ابتدائی منصوبہ بندی؛ دوسری، تعلیم و تربیت پر زبردست سرمایہ کاری؛ اور تیسری، عالمی شراکت داریاں ۔
— عبدالله بن زايد (@ABZayed) May 31, 2026
امارات کی قومی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کیا ہے؟
امارات نے ۲۰۱۷ میں دنیا کا پہلا وزارت برائے مصنوعی ذہانت قائم کیا اور عمر العلماء کو اس کا وزیر مقرر کیا ۔ اس کے بعد ۲۰۱۸ میں "مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی ۲۰۳۱" کا آغاز کیا گیا جس کے آٹھ اہداف ہیں ۔
یہ حکمت عملی امارات کو ۲۰۳۱ تک مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی رہنما بنانے کے ساتھ ساتھ توانائی، لاجسٹکس، سیاحت، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے پر مرکوز ہے ۔
اسی تناظر میں، امارات نے حال ہی میں "ایجینٹک اے آئی" کے فروغ کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کے تحت حکومتی خدمات اور عمل کے ۵۰ فیصد حصے کو دو سال میں اے آئی کے تحت لانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔
مصنوعی ذہانت امارات کی معیشت کو کیسے بدل رہی ہے؟
مصنوعی ذہانت امارات کی غیر تیل معیشت کو تقویت دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ پہلے سے ہی غیر تیل شعبہ مجموعی ملکی پیداوار کا ۷۵.۵ فیصد بن چکا ہے ۔
امارات کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے باعث ۲۰۲۱ سے ۲۰۲۳ کے درمیان کل پیداواری صلاحیت میں سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے ۔ پہلے یہ اضافہ محنت کی وجہ سے ہوتا تھا لیکن اب اے آئی نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے۔
پہلے سے ہی ۸۰ فیصد سے زائد ملازمین کام کی جگہوں پر اے آئی استعمال کر رہے ہیں ۔
مستقبل کی بات کریں تو پرائس واٹر ہاؤس کوپرز (پی ڈبلیو سی) کے مطابق ۲۰۳۰ تک مصنوعی ذہانت امارات کی معیشت میں ۱۴ فیصد حصہ ڈالے گی جو چین اور شمالی امریکہ کے بعد دنیا میں تیسرا سب سے بڑا حصہ ہوگا ۔
ایک اندازے کے مطابق ۲۰۳۱ تک مصنوعی ذہانت امارات کی معیشت میں ۹۶ ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ کرے گی ۔
امارات میں مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے کیا مواقع پیدا ہوئے ہیں؟
اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت روزگار چھین لے گی لیکن امارات اس تصور کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۵ کے درمیان اے آئی کے شعبے میں ماہرین کی تعداد میں ۱۰۰ فیصد سے زائد اضافہ ہوا ۔
حکومت نے ۸۰ ہزار وفاقی ملازمین کو "ایجینٹک اے آئی" ٹیکنالوجیز میں تربیت دینے کا سب سے بڑا پروگرام شروع کیا ہے ۔ اس کے علاوہ "ایک ملین پرامپٹرز" اور "ایک ملین اے آئی سیکھنے والوں" جیسے پروگرام عوام کو اے آئی استعمال کرنے کے قابل بنا رہے ہیں ۔
محمد بن زاید یونیورسٹی آف مصنوعی ذہانت (ایم بی زیڈ اے آئی) نے اب تک ۳۰۰ سے زائد ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلبہ فارغ التحصیل کیے ہیں جبکہ ۲۰۲۵ میں انڈرگریجویٹ پروگرام بھی شروع کیا گیا ۔
امارات کی حکومت مصنوعی ذہانت کو عوامی خدمات میں کیسے استعمال کر رہی ہے؟
امارات "اے آئی نیٹو گورنمنٹ" بننے کی طرف گامزن ہے۔ ابوظہبی نے ۲۰۲۵-۲۰۲۷ کے ڈیجیٹل حکمت عملی کے تحت ۱۳ ارب درہم کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ دنیا کی پہلی مکمل اے آئی پر مبنی حکومت بن سکے ۔
عوامی خدمات پر بات کریں تو اے آئی چیٹ بوٹس، پیشن گوئی کرنے والے تجزیاتی آلات، اور فیصلہ سازی میں مدد دینے والے نظام پہلے سے کام کر رہے ہیں ۔
انسانی وسائل اور امارات کاری کی وزارت نے "زیرو سرکاری بیوروکریسی" پروگرام کے تحت اے آئی کے ذریعے کچھ طریقہ کار میں ۱۰۰ فیصد تک کمی کی ہے ۔
اسی طرح دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے خودکار ٹیکسیاں شروع کر دی ہیں جو اے آئی اور گہری تعلیم کے الگورتھم پر کام کرتی ہیں ۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں امارات اور دیگر ممالک کا تقابلی جائزہ کیا ہے؟
ٹورٹائس میڈیا کے "گلوبل اے آئی انڈیکس" کے مطابق امارات ۲۰۲۳ میں ۲۸ویں نمبر پر تھا جو ۲۰۲۴ میں بہتر ہو کر ۲۰ویں نمبر پر آ گیا ۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کی "گلوبل اے آئی وائبرینسی ٹول" رپورٹ میں امارات پانچویں نمبر پر ہے ۔
عالمی سطح پر دیکھیں تو:
امریکہ: اے آئی ایجادات میں اول لیکن اپنانے میں ۲۱ویں نمبر پر
سنگاپور: اپنانے میں دوسرے نمبر پر (۶۳ فیصد)
چین: متوقع طور پر ۲۰۳۰ تک اے آئی میں سب سے بڑی معیشت
امارات: اپنانے میں اول، سٹینفورڈ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو امارات نہ صرف مشرق وسطیٰ کا بلکہ دنیا کا سب سے بڑا اے آئی مرکز بن جائے گا۔
امارات میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم و تربیت کی سہولیات کیسی ہیں؟
محمد بن زاید یونیورسٹی آف مصنوعی ذہانت دنیا کی پہلی گریجویٹ سطح کی اے آئی یونیورسٹی ہے ۔ اس یونیورسٹی نے ۲۰۲۵ میں کمپیوٹر سائنس کی عالمی درجہ بندی (سی ایس رینکنگز) میں اے آئی کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ ۱۰ یونیورسٹیوں میں جگہ بنائی ۔
اس یونیورسٹی نے "جیز" نامی عربی بڑی زبان کا ماڈل تیار کیا جو عربی زبان اور ثقافت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
وزارت تعلیم نے کنڈرگارٹن سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت کو بطور مضمون متعارف کرایا ہے جو ۲۰۲۵-۲۰۲۶ کے تعلیمی سال سے نافذ العمل ہے ۔ اس میں ڈیٹا، الگورتھم، اے آئی کے اخلاقی استعمال، جدت اور منصوبہ جاتی بنائے جیسے کلیدی تصورات شامل ہیں۔
امارات کی مستقبل کی منازل
مصنوعی ذہانت کا سفر امارات کے لیے صرف ایک تکنیکی جدت نہیں بلکہ خوشحالی کا نیا ذریعہ ہے۔ جس رفتار سے یہاں اے آئی کو اپنایا جا رہا ہے وہ بتاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں امارات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں اے آئی کی معیشت کا مرکز بنے گا۔
جیسا کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا: "ہمارا اگلا ہدف 'دنیا کی بہترین حکومت' بننا ہے جو ایجنٹک مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں سرفہرست ہو" ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں امارات کا عالمی نمبر کیا ہے؟
جواب: مائیکروسافٹ اے آئی ڈیفیوژن رپورٹ ۲۰۲۶ کے مطابق امارات ۷۰.۱ فیصد شرح کے ساتھ عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے ۔
سوال: امارات نے مصنوعی ذہانت پر پہلا قومی منصوبہ کب شروع کیا؟
جواب: امارات نے ۲۰۱۷ میں دنیا کا پہلا وزارت برائے مصنوعی ذہانت قائم کیا اور ۲۰۱۸ میں "مصنوعی ذہانت کی قومی حکمت عملی ۲۰۳۱" کا آغاز کیا ۔
سوال: مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امارات کی سب سے بڑی یونیورسٹی کون سی ہے؟
جواب: محمد بن زاید یونیورسٹی آف مصنوعی ذہانت (ایم بی زیڈ اے آئی) دنیا کی پہلی گریجویٹ سطح کی اے آئی یونیورسٹی ہے جو ابوظہبی میں واقع ہے ۔
سوال: کیا امارات میں اے آئی کے باعث روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں؟
جواب: جی ہاں، ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۵ کے درمیان اے آئی ماہرین کی تعداد میں ۱۰۰ فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور حکومت ۸۰ ہزار ملازمین کو اے آئی میں تربیت دے رہی ہے ۔
Comments
Post a Comment