تعزیز اور الفا ظبی کی شراکت سے امارات میں صنعتی انقلاب کے ۱۰ ارب ڈالر


متحدہ عرب امارات نے اپنی صنعتی حکمت عملی کے تحت ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تعزیز اور الفا ظبی ہولڈنگ کے درمیان ۱۰ ارب ڈالر کے کیمیائی سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ منصوبہ امارات میں صنعتی سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک سنگ میل ہے جو ملک کو درآمدات سے نجات دلا کر خود کفیل بنانے کی طرف گامزن کرے گا۔

یہ معاہدہ "میک اٹ ان دی ایمیریٹس" فورم ۲۰۲۶ کے دوران طے پایا، جہاں ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے شرکت کی۔

تعزیز اور الفا ظبی کا ۱۰ ارب ڈالر کا تاریخی معاہدہ

یہ معاہدہ صنعتی کیمیکلز کے شعبے میں اب تک کا سب سے بڑا نجی شعبے کا تعاون ہے۔ الفا ظبی ہولڈنگ، جو انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کا حصہ ہے، اس منصوبے میں بطور اسٹریٹجک پارٹنر شامل ہوگی۔

اس شراکت داری کے تحت کل ۱۴ نئی کیمیائی مصنوعات تیار کی جائیں گی جن میں اسٹائرین، پولی اسٹائرینز، ایکریلک ایسڈ، پولی اولز، ایم ڈی آئی، ایپوکسی ریزن اور لینیئر الفا-اولیفنز شامل ہیں۔

تعزیز کا کیمیائی منصوبہ عالمی فراہمی کے سلسلے کو کیسے متاثر کرے گا؟

عالمی سطح پر حالیہ برسوں میں فراہمی کے سلسلے میں خلل نے بہت سے ممالک کو اپنی پیداواری صلاحیتوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امارات اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے آپ کو ایک قابل اعتماد صنعتی مرکز کے طور پر قائم کر رہا ہے۔

یہ منصوبہ ۲.۲ ملین ٹن سالانہ کی نئی گنجائش پیدا کرے گا جو عالمی منڈی میں امارات کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔ انجینئر حمد العامری کے مطابق یہ منصوبہ برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

امارات میں صنعتی خود کفالت کے لئے مقامی سرمایہ کاری کی اہمیت

"خود کفالت" امارات کی صنعتی پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت تیار ہونے والے کیمیکل فی الحال بیرون ملک سے درآمد کئے جاتے ہیں۔ ان کی مقامی تیاری سے نہ صرف زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ فراہمی کا سلسلہ بھی محفوظ ہو جائے گا۔

مشعل الکندی نے اس موقع پر کہا کہ "یہ اسٹریٹجک تعاون تعزیز کے مشن کو وسعت دینے، درآمدات کے متبادل کو ممکن بنانے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔"

کیمیائی صنعت میں امارات کا مستقبل: ۲۰۲۸ اور اس کے بعد

تعزیز کا پہلا مرحلہ ۲۰۲۸ کے آخر تک ۴.۷ ملین ٹن سالانہ کی پیداواری گنجائش کے ساتھ کام کرنا شروع کر دے گا جس میں لو کاربن امونیا، میتھانول اور پی وی سی شامل ہیں۔

اس نئے منصوبے کے بعد یہ صلاحیت ۶.۹ ملین ٹن سالانہ تک جا پہنچے گی، جس سے امارات مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا کیمیائی پیداواری مرکز بن جائے گا۔

یو اے ای کی صنعتی ترقی میں الفا ظبی ہولڈنگ کا کردار

الفا ظبی ہولڈنگ نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف ایک سرمایہ کار کمپنی نہیں بلکہ قومی ترقی میں فعال شریک ہے۔ یہ کمپنی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (آئی ایچ سی) کا حصہ ہے جس نے "میک اٹ ان دی ایمیریٹس" فورم کے دوران مجموعی طور پر ۴۰ ارب درہم سے زائد کے معاہدے کئے۔

انجینئر حمد العامری نے اس موقع پر کہا کہ "یہ شراکت داری الفا ظبی کی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ایسے اسٹریٹجک، مستقبل پر مرکوز صنعتی پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کرے گا جو امارات کی اقتصادی تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔"

ایک نیا صنعتی دور

یہ ۱۰ ارب ڈالر کا معاہدہ صرف ایک سرمایہ کاری نہیں بلکہ امارات کے صنعتی مستقبل کا ایک واضح اعلان ہے۔ یہ منصوبہ ملک کو درآمدات پر انحصار سے نجات دلائے گا، مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، اور امارات کو عالمی صنعتی نقشے پر ایک نئی پہچان دے گا۔

جیسا کہ ڈاکٹر سلطان الجابر نے کہا: "اقتصادی سلامتی درآمدات سے نہیں مل سکتی، اسے خود قائم اور محفوظ کرنا ہوگا۔"

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: اس منصوبے کی کل لاگت کتنی ہے؟
جواب: اس منصوبے کی کل لاگت ۱۰ ارب ڈالر (۳۶.۷ ارب درہم) ہے جو کیمیائی شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی نجی سرمایہ کاری ہے۔

سوال: یہ منصوبہ کہاں واقع ہے؟
جواب: یہ منصوبہ ابوظہبی کے الضفرة علاقے میں واقع الرویس انڈسٹریل سٹی میں قائم کیا جائے گا۔

سوال: کتنی نئی کیمیائی مصنوعات تیار ہوں گی؟
جواب: اس منصوبے کے تحت کل ۱۴ نئی کیمیائی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔

سوال: اس منصوبے سے کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی؟
جواب: براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، خاص طور پر انجینئرنگ اور ٹیکنیشن کے شعبوں میں۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

صحرا میں ہریالی: متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت سے خوراک اور پانی کا مستقیل کیسے لکھ رہا ہے؟