سیلف ڈیفنس یا نئی جنگ؟ ایران میں امریکی حملے: کیا جنگ لازوال ہے؟
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے۔ امریکی حملوں نے اس وقت دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی جب آبنائے ہرمز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ درحقیقت، امریکہ نے ایران میں نام نہاد ‘سیلف ڈیفنس’ حملے کیے ہیں، جس نے اپریل کے اوائل سے جاری نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
حملے کی نوعیت
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹم ہاکنز نے واضح کیا کہ یہ حملے ایرانی میزائل لانچ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ‘اپنی افواج کے تحفظ’ کے لیے کی گئی، جب کہ وہ جنگ بندی کے دوران ‘تحمل کا مظاہرہ’ کر رہے تھے۔ ایرانی میڈیا نے بندرعباس میں دھماکوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
US military launches new strikes on targets in southern Iran, US Central Command says https://t.co/WjuuooSFx1
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) May 25, 2026
مذاکرات بمقابلہ میدان جنگ
یہ کارروائی اس وقت کی گئی ہے جب ایرانی اعلیٰ سطحی مذاکرات کار دوحہ میں قطری قیادت سے ملاقات کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو جائے گی؟ اگرچہ امریکہ نے اسے ‘دفاعی’ قرار دیا، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں اعتماد سازی کے عمل کو تباہ کر دیتی ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھا کہ مذاکرات ‘اچھے طریقے سے’ چل رہے ہیں اور ایران کو جوہری مواد سے پاک کر دیا جائے گا۔
عالمی اثرات: تیل اور آبنائے ہرمز
امریکی حملوں کا آبنائے ہرمز پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کی بیس فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، اور ایرانی پابندی کے باعث پہلے ہی سپلائی متاثر ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خطرہ ہے۔
وسیع تر سیاق و سباق: ابراہم معاہدے اور پاکستان
امریکی صدر نے اس معاہدے کو ابراہم معاہدے سے بھی منسلک کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی فوری طور پر اس معاہدے پر دستخط کریں۔ تاہم، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ سابق سفیر مسعود خان نے اسے سفارتی عمل میں ‘نیا جہت’ قرار دیا۔
موجودہ صورتحال میں ایسا لگتا ہے کہ امریکی حملے اور مذاکرات متوازی چل رہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس جنگ کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ یہ نازک توازن کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ شدید تباہی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
عمومی سوالات
س: امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟
ج: امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ ‘سیلف ڈیفنس’ حملے تھے جو ایرانی میزائل سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے تاکہ امریکی فوجیوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔
س: کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو جائے گی؟
ج: فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، لیکن یہ حملے اسے شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ امریکہ نے اسے ‘تحمل’ قرار دیا، تاہم ایران کی طرف سے جوابی کارروائی کے امکانات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
س: آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ج: ایرانی پابندی کے باعث پہلے ہی سپلائی متاثر ہے اور امریکی حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے، جس سے عالمی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
س: پاکستان کا اس تنازع میں کیا کردار ہے؟
ج: پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے ایران کا دورہ کیا اور امریکہ کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں، تاہم پاکستان نے ابراہم معاہدے میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔

Comments
Post a Comment