مشرقِ وسطیٰ دوبارہ خطرے کی زد پر: کیا ٹرمپ کی دھمکی محض سفارتی دباؤ تھی؟

 

مشرقِ وسطیٰ میں پھر سے خونریزی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن خلیجی ممالک کی درخواست پر اسے ملتوی کر دیا، نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ایرانی کشیدگی ۲۰۲۶ عروج پر ہے۔

یہ محض ایک فوجی دھمکی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سفارتی ڈرامے کا حصہ ہے جس میں خلیجی ممالک، اسرائیل اور بڑی عالمی طاقتیں شامل ہیں۔ اصل سوال یہ ہے: کیا واقعی حملہ ہونے والا تھا، یا یہ صرف ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ کی ایک تدبیر تھی؟


ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات کے لیے مثبت پیغامات دیے تھے، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی اکیس گھنٹے کی طویل نشستیں بے نتیجہ رہیں۔ ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ امریکی وفد ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

اس ناکامی کی بنیادی وجوہات میں ایران کا اپنے ایٹمی پروگرام پر اصرار اور امریکہ کا ایران پر پابندیاں ختم کرنے سے انکار ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے دفاعی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا، جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کر دے۔


ٹرمپ نے ایران پر حملے کا منصوبہ کیوں ملتوی کیا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت نے ان سے درخواست کی کہ "خدا نخواستہ ہمارے حملے کو روک دیا جائے، کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں"۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حملے سے محض ایک گھنٹہ پہلے تھے۔

لیکن سفارتی حلقوں میں اس بیان پر شدید شکوک پائے جاتے ہیں۔ کیا واقعی خلیجی ممالک کو پہلے سے اس حملے کی اطلاع نہیں تھی؟ یا یہ ایک اسٹیجڈ ڈرامہ تھا تاکہ ٹرمپ خود کو "امن پسند" ظاہر کر سکیں اور ایران پر دباؤ بڑھا سکیں؟

خلیجی ممالک کا امریکی ایرانی کشیدگی میں کیا کردار ہے؟

خلیجی ممالک اس کشیدگی میں سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ کوئی بھی نئی جنگ ان کی معیشتوں کو تباہ کر سکتی ہے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق کر سکتی ہے۔ اس لیے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنے طور پر ثالثی کی کوششیں تیز کر دیں۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ حملے کو روک دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک کا ایران پر اتنا اثر و رسوخ ہے کہ وہ اسے مذاکرات پر آمادہ کر سکیں؟ ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔


آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟

یہ مسئلہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں۔ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ان تمام جہازوں کو روکے گی جو ایران کو آبنائے ہرمز میں محصول ادا کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد توانائی گزرتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اگر یہ راستہ بند ہوا تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی، جو پہلے سے کھنچی ہوئی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ دوسری طرف ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ پورے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔


کیا ایران امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا مکمل جواب دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ "مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے"۔

ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، ڈرون اور خطے میں پراکسی فورسز کی ایک بڑی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے لیے ایران پر حملہ کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران نے اپنی ڈرون سازی کی صلاحیتیں بحال کر لی ہیں اور وہ "حیرت انگیز" جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


پاکستان کی ثالثی امریکہ ایران تنازع میں کیوں ناکام ہوئی؟

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر بہت امیدیں تھیں، لیکن بدقسمتی سے وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کی بڑی وجہ دونوں طرف سے اعتماد کی شدید کمی ہے۔ ایران کو امریکہ پر بھروسہ نہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ ہی نے یکطرفہ طور پر ۲۰۱۵ کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔

ایران کے مطابق امریکہ نے "غیر قانونی اور حد سے زیادہ مطالبات" پیش کیے۔ دوسری طرف امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری پروگرام ترک کرنے سے انکار کیا۔ اس طرح یہ مذاکرات ناکام ہوگئے اور پاکستان کی ثالثی بھی کام نہ آسکی۔


امریکی ایرانی مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا صورتحال ہے؟

فی الحال صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ ایک طرف ٹرمپ حملے کی دھمکی دیتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ "لمحاتی طور پر" حملے کے لیے تیار رہیں۔ دوسری طرف ایران نے انتباہ کیا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو وہ خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا۔

خلیجی ممالک اس صورتحال سے بے حد پریشان ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ لیکن موجودہ حالات میں ایسا لگتا ہے کہ جنگ اور امن کی سیڑھی بہت پتلی ہوگئی ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہو جائے گی؟

فی الحال دونوں فریق جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن خلیجی ممالک کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ نے حملے کو ملتوی کیا ہے، منسوخ نہیں، اس لیے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

سوال: ٹرمپ نے ایران پر حملے کا منصوبہ کیوں بنایا؟

ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران "جوہری عزائم" ترک کرنے کو تیار نہیں، اس لیے انہوں نے فوجی آپشن کو میز پر رکھا۔

سوال: آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان پر کیا اثر ہوگا؟

پاکستان کو ایران سے سستا ایندھن ملنے کی امید تھی لیکن کشیدگی بڑھنے سے آئی پائپ لائن منصوبے کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستانی معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔

سوال: کیا ایران امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

بالکل۔ ایران کے پاس جدید میزائل سسٹم اور ڈرون ہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو وہ "حیرت انگیز" جواب دیں گے اور پورے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

سوال: خلیجی ممالک نے ٹرمپ سے حملہ روکنے کی درخواست کیوں کی؟

خلیجی ممالک کی معیشتیں تیل کی برآمدات پر منحصر ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے ان کی معیشتیں تباہ ہو جائیں گی۔ اس لیے انہوں نے جنگ سے بچنے کے لیے ثالثی کی کوشش کی۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی