متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا عظیم الشان منصوبہ - دنیا کا سب سے بڑا اے آئی کیمپس تعمیر ہو رہا ہے
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا کیمپس تعمیر ہو رہا ہے۔ پانچ جی ڈبلیو صلاحیت کے حامل اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح گزشتہ برس قصر الوطنی میں ہوا تھا جس میں امارات اور امریکی صدور نے شرکت کی۔ اب اس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور پہلی بار امریکہ سے اے آئی چپس کی کھیپ بھی متحدہ عرب امارات پہنچ چکی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔
: متحدہ عرب امارات اور امریکہ اے آئی کیمپس کی تعمیر کب مکمل ہو گی؟
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کے کیمپس کی تعمیر میں تیزی لائی گئی ہے۔ خزنا ڈیٹا سینٹرز کی قیادت میں بننے والے اس منصوبے کا پہلا مرحلہ دو سو میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ دو ہزار چھبیس کی تیسری سہ ماہی میں مکمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر پانچ ہزار سے زائد مزدور کام کر رہے ہیں اور ایک لاکھ کیوبک میٹر کنکریٹ ڈالی جا چکی ہے۔ پوری تعمیر تقریباً تین سال میں حتمی شکل اختیار کر لے گی۔
یہ کیمپس انیس اعشاریہ دو مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے جو موناکو کی ریاست سے تقریباً نو گنا بڑا ہے۔ اتنی بڑی جگہ پر بننے والی یہ سہولت اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور جدید ترین ہو گی۔
The 5GW UAE-US AI Campus is under construction & the first 200MW will come online this year. From Abu Dhabi, American technology will serve roughly half the world's population — a model for how to deploy US technology responsibly and bring AI to the markets that need it most. pic.twitter.com/eubNE7QXz2
— UAE Embassy US (@UAEEmbassyUS) May 8, 2026
: پانچ جی ڈبلیو اے آئی کیمپس دنیا کی نصف آبادی کو کیسے فائدہ پہنچائے گا؟
یہ منصوبہ مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات میں امریکی سفیر یوسف العتیبہ کے مطابق ابوظہبی سے تعینات امریکی ٹیکنالوجی دنیا کی نصف آبادی کو خدمات فراہم کر سکے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے اس اے آئی انفراسٹرکچر سے استفادہ کر سکیں گے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک کے لیے اہم ہو گا جہاں مصنوعی ذہانت کی جدید سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا کیمپس ان ممالک کو جدید ٹیکنالوجی مہیا کرنے کا ایک پل ثابت ہو گا۔
: سٹارگیٹ متحدہ عرب امارات منصوبے میں کون سی عالمی کمپنیاں شامل ہیں؟
اس عظیم منصوبے میں دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں۔ جی چالیس دو کی قیادت میں بننے والے سٹارگیٹ متحدہ عرب امارات میں اوپن اے آئی، اوریکل، این ویڈیا، سسکو اور سافٹ بینک جیسی کمپنیاں شراکت دار ہیں۔ ان کمپنیوں کا اشتراک اس منصوبے کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
این ویڈیا کی جدید ترین اے آئی چپس کی تعداد پینتیس ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ وہی چپس ہیں جو دنیا بھر میں اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور ان تک رسائی حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے بڑی کامیابی ہے۔
: اے آئی کیمپس کی تعمیر سے خطے کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا کیمپس نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ العتیبہ کے مطابق امریکہ میں اب تک ایک ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ اگلی دہائی میں مزید ایک اعشاریہ چار ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں دونوں ممالک کے درمیان تیس سے زائد معاہدے طے پا چکے ہیں۔
یہ سرمایہ کاری نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پورے خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اے آئی کے شعبے میں ہزاروں ماہرین کی ضرورت ہو گی جس سے مقامی اور بین الاقوامی ہنرمندوں کو فائدہ ہو گا۔
متحدہ عرب امارات نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت کیسے حاصل کی؟
متحدہ عرب امارات کی یہ کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی۔ ملک نے گزشتہ ایک دہائی سے اس شعبے میں منصوبہ بند سرمایہ کاری کی ہے۔ دو ہزار سترہ میں متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے مصنوعی ذہانت کا وفاقی وزیر مقرر کیا۔ اسی برس قومی اے آئی حکمت عملی بھی متعارف کرائی گئی۔
دو ہزار انیس میں محمد بن زائد یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا قیام ایک اور سنگ میل ثابت ہوا۔ آج یہ ادارہ دنیا کے معروف اے آئی تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ دو ہزار چھبیس میں اس یونیورسٹی سے ایک سو چالیس سے زائد طلبہ نے تیئیس ممالک میں شامل ہو کر گریجویشن کی ہے۔
محمد بن زائد مصنوعی ذہانت یونیورسٹی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کیا کردار ادا کر رہی ہے؟
متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کے کیمپس کے ساتھ ساتھ محمد بن زائد یونیورسٹی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی اس شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹی کے اسی فیصد گریجویٹس پہلے سال میں ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایڈنوک، پری سائٹ، میٹا، ٹیسلا اور بلومبرگ جیسی بڑی کمپنیوں میں جا رہے ہیں۔
اماراتی طلبہ عبداللہ المنصوری اور بشائر السریذی جیسی شخصیات اس یونیورسٹی کی کامیابی کی مثالیں ہیں۔ یہ طلبہ نہ صرف تحقیق بلکہ عملی منصوبوں میں بھی مصروف ہیں، خاص طور پر صحت کے شعبے میں اے آئی کے استعمال پر کام کر رہے ہیں۔
: اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کا کیمپس کہاں بن رہا ہے؟
جواب: یہ کیمپس ابوظہبی میں قصر الوطنی کے قریب بن رہا ہے۔ یہ انیس اعشاریہ دو مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسے پانچ جی ڈبلیو صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سوال: اے آئی کیمپس کی تعمیر میں کتنا خرچ آئے گا؟
جواب: اس منصوبے میں اگلی دہائی کے دوران ایک اعشاریہ چار ٹریلین ڈالرز کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اب تک امریکہ میں ایک ٹریلین ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔
سوال: اے آئی چپس کی پہلی کھیپ کب پہنچی؟
جواب: امریکہ سے اے آئی چپس کی پہلی کھیپ مئی دو ہزار چھبیس میں متحدہ عرب امارات پہنچی۔ مزید کھیپیں آنے والے مہینوں میں موصول ہوں گی۔
سوال: اس منصوبے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو گا؟
جواب: یہ کیمپس دنیا کی نصف آبادی کو خدمات فراہم کرے گا جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستانی ماہرین اور کمپنیاں اس اے آئی انفراسٹرکچر سے استفادہ کر سکی گی۔
سوال: کیا یہ منصوبہ ماحول دوست ہے؟
جواب: ہاں، اس کیمپس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے جوہری، شمسی اور گیس توانائی استعمال کی جائے گی۔

Comments
Post a Comment