’پروجیکٹ فریڈم‘ اور ’وائٹ فلیگ‘: کیا ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی ایران کو زیر کر سکتی ہے؟


واشنگٹن ڈی سی سے خصوصی رپورٹ: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو ایک بار پھر اپنے بیانات میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کو ’سفید جھنڈا‘ لہرانے کا حکم دے دیا۔ اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی پوری فوج کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایرانی بحریہ صرف ’چھوٹی کشتیوں‘ تک محدود رہ گئی ہے ۔


پس منظر اور تازہ صورتحال

درحقیقت، یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے آبنائے ہرمز میں ایک نیا فوجی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کے تحت امریکی جنگی جہاز ان تجارتی بحری جہازوں کو راستہ دکھا رہے ہیں جو ایران کے قبضے میں پھنسے ہوئے تھے ۔ تاہم، اس کارروائی کے نتیجے میں مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی چھ چھوٹی کشتیاں تباہ کر دی ہیں، جس کے بعد ایرانی فوج نے غصے سے جواب دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر فجیرہ میں تیل کی تنصیبات پر حملہ کر دیا ۔


ایران کا سخت ردِعمل

اس صورتحال پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ دباؤ کی سیاست کے تحت مذاکرات ممکن نہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ’امریکی یکطرفہ مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنے‘ کو تیار نہیں ہے ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں کو کوئی بھی راستہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور خبردار کیا کہ کوئی بھی جہاز اگر طے شدہ کوریڈور سے ہٹا تو اسے ’خود ایران کے مقرر کردہ راستوں‘ کی پاسداری کرنی ہوگی ۔


تجزیہ: کیا یہ اعلان جنگ ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اور ایران ایک بار پھر کھلی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ اس حوالے سے ماہرین کی رائے واضح نہیں ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے دھمکیاں دی ہیں، لیکن انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ وہ ’لڑائی کی تلاش میں نہیں ہیں‘، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر تجارتی جہازوں پر حملہ ہوا تو ’خوفناک اور تباہ کن امریکی طاقت‘ کا استعمال کیا جائے گا ۔

اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک ۱۴ نکاتی امن منصوبہ امریکہ کو بھیجا ہے۔ یہ منصوبہ آبنائے ہرمز میں نئے انتظامات اور جوہری پروگرام پر بات چیت کا پابند ہے، تاہم ٹرمپ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران پوری طرح ہتھیار ڈال دے۔

عالمی اثرات

اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ اس بندش کی وجہ سے پہلے ہی تیل کی قیمتوں میں ۵۰ فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک نے الرٹ جاری کر دیا ہے کہ ان کے پاس خام تیل کے صرف ایک ماہ کے ذخائر باقی ہیں ۔


آخرکار، یہ کشیدگی بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کی ناکامی کی ایک مثال ہے۔ ٹرمپ کا ’سفید جھنڈا‘ والا بیان اگرچہ ریپبلکن ووٹروں میں ان کے لیے مقبولیت کا باعث بن سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران جیسی تاریخی تہذیب اور اسٹریٹیجک سوچ رکھنے والی طاقت کو اس طرح کی ذلت آمیز شرائط پر مجبور کرنا خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دے سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنا ثالثی کردار برقرار رکھے، تو یہ واحد امید کی کرن ہو سکتی ہے، ورنہ یہ چھوٹی جھڑپیں ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔


FAQs

سوال: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اب ختم ہو گئی ہے؟

جواب: فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم امریکی فوجی آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ اور ایرانی جوابی حملوں کے باعث یہ بہت کمزور ہو چکی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن ایران کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔

سوال: ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا مقصد کیا ہے؟

جواب: یہ امریکی فوج کا ایک مشن ہے جس کے تحت وہ آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو ایرانی حملوں سے بچا کر بحفاظت نکالنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ آپریشن عارضی ہے ۔

سوال: پاکستان اس تنازعے میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟

جواب: پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان موثر ثالث کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ ایران نے اپنا ۱۴ نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے ہی امریکہ کو بھیجا تھا ۔

سوال: کیا ایران نے واقعی اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کر لیا ہے؟

جواب: ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے امریکہ کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی