حکومت ۴.۰: متحدہ عرب امارات کی جانب سے ۸۰ ہزار ملازمین کو اے آئی کی تربیت، نصف سرکاری خدمات ہوں گی ڈیجیٹل


ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے متحدہ عرب امارات کی حکومت ۴.۰ اور مصنوعی ذہانت میں تبدیلی کے تحت ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے دو سالوں میں اپنی ۵۰ فیصد سرکاری خدمات اور آپریشنز کو جدید ترین ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے ہم آہنگ کرے گا۔ یہ اعلان شیخ محمد بن راشد المکتوم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا جس میں ملک کے مستقبل کے ڈیجیٹل وژن کا نقشہ واضح کر دیا گیا۔


متحدہ عرب امارات کی حکومت ۴.۰ کیا ہے؟

حکومت ۴.۰ دراصل ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں روایتی سرکاری کارروائیاں ختم ہو کر خودکار اور ذہین نظاموں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ اس تبدیلی کے تحت سرکاری دفاتر میں قطاریں لگنے اور فارم بھرنے کے طریقہ کار کو ختم کرتے ہوئے، شہریوں کو ان کی ضروریات کا اندازہ لگا کر پہلے سے خدمات فراہم کی جائیں گی۔ یہ منصوبہ صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کو دنیا کی پہلی مکمل مصنوعی ذہانت پر مبنی حکومت بنانے کی جانب ایک جارحانہ پیش قدمی ہے۔

پچاس ہزار سرکاری ملازمین کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کیوں دی جا رہی ہے؟

کسی بھی تکنیکی انقلاب کی کامیابی کے لیے انسانی وسائل کی تربیت اشد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت وزراء سے لے کر نئے بھرتی ہونے والے ملازمین تک ۸۰ ہزار (اسی ہزار) سرکاری اہلکاروں کو مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ یہ تربیت معروف جامعات اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے کرائی جائے گی، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مشینیں فیصلے تو کریں لیکن ان فیصلوں کی ذمہ داری اور نگرانی انسانوں کے پاس ہی رہے۔


ایجنٹک مصنوعی ذہانت کیا ہے اور یہ حکومتی کاموں میں کیسے استعمال ہوگا؟

ایجنٹک مصنوعی ذہانت روایتی مصنوعی ذہانت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ جہاں عام مصنوعی ذہانت صرف معلومات کو پروسیس کرتا ہے، وہیں ایجنٹک مصنوعی ذہانت خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کابینہ نے پہلے مرحلے میں خدمات کے چار بڑے سیٹس کی نشاندہی کی ہے: شہری خدمات، رہائشی خدمات، کاروباری خدمات اور سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سہولیات۔ مثال کے طور پر، یہ نظام خود بخود شہری کی زندگی کے اہم مراحل (جیسے شادی یا بچے کی پیدائش) کو دریافت کر کے ان سے متعلقہ سرکاری فارمز اور خدمات خود بخود فراہم کر دے گا، جس سے شہری کو سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔


متحدہ عرب امارات میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے کیا فوائد ہوں گے؟

صحت کا شعبہ اس ڈیجیٹل انقلاب کا خاصا اہم مرکز ہے۔ کابینہ نے منظور کیا کہ ایک "قومی مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کی دیکھ بھال کا نظام" بنایا جائے گا۔ اس کے تحت ڈیجیٹل صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنایا جائے گا اور طبی عملے کو مصنوعی ذہانت کی جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ خاص طور پر "رویاتی بصیرت کا مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم" متعارف کرائی گئی ہے جو لوگوں کے روزمرہ کے رویوں اور عادات کا تجزیہ کرکے موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قلب جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہدف شدہ حکمت عملی تیار کرے گی۔ اس کے علاوہ سمارٹ صحت کی ایپلی کیشنز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک نیا وفاقی قانون بھی مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کے معلومات کی رازداری اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔


کیا مصنوعی ذہانت کی مدد سے سرکاری اداروں میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے؟

جی ہاں، اس منصوبے کا بنیادی مقصد سرکاری کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ اسٹریٹجک فریم ورک کے مطابق ہر وزارت اور وفاقی ادارے میں "چیف ڈیٹا اینڈ اے آئی آفیسر" تعینات کیا جائے گا جو اس ادارے میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ اور گورننس کے ذمہ دار ہوں گے۔ مشین لرننگ کی مدد سے یہ پیش گوئی کی جا سکے گی کہ مستقبل قریب میں شہریوں کو کن خدمات کی ضرورت ہوگی، جس سے سرکاری وسائل کی بہتر اور دانشمندانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ شیخ محمد بن راشد نے واضح کیا کہ "ہماری اگلی منزل دنیا کی بہترین حکومت بننا ہے جو ایجنٹک مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں اول ہو"۔


متحدہ عرب امارات کو دنیا کی پہلی مکمل مصنوعی ذہانت پر مبنی حکومت بننے میں کیا چیلنجز ہیں؟

یہ سفر اگرچہ پرکشش ہے، مگر اس میں قانونی اور اخلاقی چیلنجز بھی کافی ہیں۔ وزیر مملکت مریم حمادی نے داؤس میں عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی حکومت کو آئینی تحفظات، مساوات اور انسانی جوابدہی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "مصنوعی ذہانت فیصلوں سے آگاہ کر سکتا ہے، لیکن ذمہ داری اور اختیار ہمیشہ انسانوں کے پاس ہی رہنا چاہیے"۔ اس کے لیے متحدہ عرب امارات "ریگولیٹری انٹیلی جنس ایکو سسٹم" تیار کر رہا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے قوانین کو تیز رفتاری سے ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن یقینی بناتا ہے کہ یہ تبدیلیاں قانون کی بالادستی کے تحت ہوں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا مصنوعی ذہانت آنے والے سالوں میں سرکاری ملازمین کو بے روزگار کر دے گا؟

جواب: متحدہ عرب امارات کا نقطہ نظر ملازمین کو تبدیل کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنانے کا ہے۔ ۸۰ ہزار ملازمین کو تربیت دے کر انہیں مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ زیادہ پیچیدہ اور تخلیقی کاموں پر توجہ دے سکیں، جبکہ مشینیں معمول کے کام سنبھال لیں گی۔

سوال: مصنوعی ذہانت پر مبنی سرکاری خدمات سے عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا؟

جواب: عام شہری کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے سے نجات مل جائے گی۔ ٹی اے ایم ایم ۴.۰ جیسے پلیٹ فارمز شہری کی ضروریات کا اندازہ لگا کر ۱۵ سے زائد زبانوں میں خودکار خدمات فراہم کریں گے، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوگی۔

سوال: کیا متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے کوئی قانون موجود ہے؟

جواب: جی ہاں، کابینہ نے سمارٹ صحت کی ایپلی کیشنز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک نیا وفاقی قانون تیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون میں معلومات کی گورننس، حفاظتی معیارات اور مریضوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی