روس کا طالبان کے ساتھ ‘مکمل شراکت داری’ کا اعلان: پاکستان کے لیے نئے چیلنجز یا مواقع؟


ماسکو: مئی ۲۰۲۶ میں روس نے ایک اہم سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان کے موجودہ حکام (طالبان) کے ساتھ مکمل شراکت داری قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام روسی سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شویگو کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اس بیان نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے خاص طور پر پاکستان کے لیے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ کیا ماسکو کا یہ قدم اسلام آباد کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے یا کوئی نیا خطرہ؟ آئیے اس پیچیدہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہیں۔


روس نے طالبان کو باضابطہ تسلیم کیوں کیا؟

روس نے اپریل ۲۰۲۵ میں طالبان کو پابندیوں سے ہٹاتے ہوئے باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا ۔ اس فیصلے کے پیچھے عملی مجبوریاں تھیں۔ ماسکو کی نظر میں افغانستان میں طالبان ایک ناگزیر حقیقت بن چکے تھے۔ صدر ولادیمیر پوٹن کا ماننا تھا کہ افغانستان میں استحکام کے لیے موجودہ حکومت کے ساتھ رابطے ضروری ہیں ۔

ماسکو بنیادی طور پر اپنی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ روس کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام وسطی ایشیائی ریاستوں کو متاثر کر کے خود روسی سرزمین تک پہنچ سکتا ہے ۔ مزید یہ کہ روس نے طالبان کی دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو سراہا ہے ۔


روس اور طالبان شراکت داری میں کیا کچھ شامل ہے؟

سرگئی شویگو کے مطابق یہ شراکت داری صرف سلامتی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع تر فریم ورک ہے جس میں تجارت، معیشت، ثقافت اور انسان دوست امداد شامل ہے ۔ اس شراکت داری کا ایک اہم حصہ اقتصادی منصوبے ہیں۔

طالبان چاہتے ہیں کہ افغانستان علاقائی تجارت کا مرکز بنے، خاص طور پر روس سے آنے والے تیل کی ترسیل کے لیے ۔ اس مقصد کے لیے ہرات میں ایک لاجسٹک حب بنانے کا منصوبہ ہے جو وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا (بالخصوص پاکستان) سے ملائے گا ۔ اس طرح روس نہ صرف اپنی توانائی کی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں حاصل کر رہا ہے بلکہ پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے ۔

کیا روس طالبان شراکت داری سے پاکستان کو فائدہ ہو گا؟

پاکستان کے لیے اس صورت حال میں مواقع بھی ہیں۔ سب سے بڑا موقع اقتصادی انضمام ہے۔ اگر روس اور طالبان کی طرف سے ہرات کے راستے پاکستان تک تجارتی راہداریاں قائم ہوتی ہیں، تو پاکستان ایک ٹرانزٹ ملک بن کر محصولات (revue) اور فیس حاصل کر سکتا ہے ۔

اس کے علاوہ پاکستان کو افغانستان میں بڑھتی ہوئی روسی سرمایہ کاری سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اگر روس افغانستان میں انفراسٹرکچر منصوبوں میں حصہ لیتا ہے تو اس سے روزگار اور تجارت کے مواقع پیدا ہوں گے، جس کے مثبت اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ تاہم ان فوائد سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو فعال سفارتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔


روس طالبان تعلقات: پاکستان کے لیے خطرات اور چیلنجز

مواقع کے باوجود، پاکستان کے لیے شدید خطرات بھی موجود ہیں۔ روس کا طالبان کو تسلیم کرنا پاکستان کے اس کردار کو کمزور کر سکتا ہے جسے وہ افغان امن عمل میں “کلیدی” دروازہ سمجھتا تھا ۔ اب ماسکو نے براہ راست کابل سے رابطہ قائم کر لیا ہے۔

سب سے بڑا خطرہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ڈومین میں ہے۔ روس نے ماضی میں پاکستان کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور روسی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق افغانستان میں ۵,۰۰۰ سے ۷,۰۰۰ تک ٹی ٹی پی کے جنگجو موجود ہیں ۔ اگر روس طالبان کو قائل کر لیتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بھارت کے ساتھ تعاون کرے، تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔


اس شراکت داری میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا کیا کردار ہے؟

شویگو نے واضح کیا کہ یہ شراکت داری شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کے تحت آگے بڑھے گی ۔ ایس سی او میں نہ صرف روس اور چین شامل ہیں بلکہ بھارت اور پاکستان بھی اس کے رکن ہیں ۔ روس ایس سی او کے اندر افغانستان کے لیے ایک رابطہ گروپ دوبارہ فعال کرنا چاہتا ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں افغانستان سے متعلق اہم فیصلے ایس سی او کے فورم پر ہوں گے، جہاں پاکستان اور بھارت کو ایک ہی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ بھارت اس پلیٹ فارم کا استعمال افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے کر سکتا ہے، جسے روس اور چین بھی سپورٹ کر سکتے ہیں۔


روس طالبان تعلقات کا مستقبل اور پاکستان کی حکمت عملی

ماہرین کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان یہ تعلقات بتدریج مزید گہرے ہوں گے۔ ماسکو طویل المدتی منصوبے کے تحت افغانستان میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنائے اور اس نئی تبدیلی کو خطرے کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھے۔ اسلام آباد کو ایس سی او کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنے تحفظات رکھنے چاہئیں اور یقینی بنانا چاہیے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اگر پاکستان اس مسابقت میں پیچھے رہ گیا تو اسے خطے میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا روس طالبان کو ہتھیار فراہم کرے گا؟

جواب: فی الحال روس نے اس حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔ موجودہ شراکت داری تجارت، توانائی اور ثقافتی تبادلوں پر مرکوز ہے۔ تاہم مستقبل میں سیکیورٹی تعاون کے معاہدے ہو سکتے ہیں جس میں ہلکے ہتھیاروں کی فراہمی شامل ہو، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

سوال: روس طالبان شراکت داری سے بھارت کو کیسے فائدہ ہو گا؟

جواب: روس اور بھارت تاریخی دوست ہیں۔ روس کا یہ اقدام بھارت کو افغانستان میں ایک “متوازن” کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بھارت ایس سی او کے ذریعے اور روس کی مدد سے افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جس سے پاکستان پر بھارت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

سوال: کیا روس طالبان شراکت داری سے پاکستان کی معیشت متاثر ہو گی؟

جواب: مختصر مدت میں تو کوئی بڑا منفی اثر نظر نہیں آتا، بلکہ ترسیلات تجارت (transit trade) بڑھنے سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن طویل مدت میں اگر روس اور چین بھارت کے ذریعے افغانستان تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں تو پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کم ہو سکتی ہے۔

سوال: کیا پاکستان کو روس کی اس شراکت داری پر اعتراض کرنا چاہیے؟

جواب: پاکستان کو باضابطہ اعتراض کرنے کے بجائے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کو روس کے ساتھ مشترکہ فورمز پر بیٹھ کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مخالفت کرنے سے پاکستان مزید الگ تھلگ ہو سکتا ہے۔

سوال: کیا یہ روس اور امریکہ کے درمیان نئی سرد جنگ کا آغاز ہے؟

جواب: بالکل نہیں۔ امریکہ افغانستان سے نکل چکا ہے جبکہ روس خلا کو پر کر رہا ہے۔ یہ ایک نئی سرد جنگ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت پسندی ہے جہاں روس اور چین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی