پاکستان بھارت ۲۰۲۵ جنگ: کس نے جیتا اور کس نے ہارا؟ ایک سالہ جائزہ


اپریل ۲۰۲۵ کا پہلگام حملہ: پچیس برسوں میں کشمیر کا بدترین دہشت گردانہ حملہ، جس نے ۲۶ معصوم سیاحوں کی جان لے لی۔ اس حملے کے بعد نریندر مودی کی حکومت نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزام لگا کر ایک ایسی کارروائی شروع کی جس نے پوری دنیا کو جوہری جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اب مارکاِحق کے ایک سال مکمل ہونے پر ہم اس تنازعے کا جائزہ لیں گے۔


پہلگام سے جنگ تک: صورتحال کی سنگین ہونے کی وجوہات

پاکستان اور بھارت کے درمیان ۲۰۲۵ کی جنگ کی وجہ کیا تھی؟ بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے فوری بعد دریائے سندھ کا معاہدہ معطل کرنا اس تنازعے کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوا۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگ کے اعلان کے مترادف تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات کم کر دیے، سرحدیں بندی کیں، اور ۶-۷ مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان پر فضائی حملے کر دیے۔ یہ وہ نقطہ تھا جہاں سے کشیدگی نے خطرناک شکل اختیار کر لی۔

عملیات بنیاں مرصوص: پاکستان کا تاریخی جواب

آپریشن بنیاں مرصوص کیا تھا؟ کہا جاتا ہے کہ مظلوم جب حد سے زیادہ بے بس ہو جاتا ہے تو اس کی دعا میں طاقت آ جاتی ہے۔ ۱۰ مئی ۲۰۲۵ کو پاکستان نے "عملیات بنیاں مرصوص" (مضبوط دیوار) کے تحت جوابی کارروائی کی۔ چیف آف دی آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا بلکہ جوابی کارروائی میں ۷ سے ۸ بھارتی طیارے مار گرائے، جن میں جدید رافیل اور سوکھوئی طیارے بھی شامل تھے۔


ڈیڑھ گھنٹے کی جنگ: بھارت کی سفارتی شکست

بھارتی میڈیا نے مٹی اور آسمان کے جھوٹے پل باندھے، لیکن میدان جنگ میں حقیقت کچھ اور تھی۔ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے فضائی حملوں کے صرف ڈیڑھ سے چار گھنٹوں کے اندر ہی بھارتی قیادت نے اپنی ہار تسلیم کر لی اور جنگ بندی کی درخواست کر دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ۱۰ مئی کو جنگ بندی ہوئی، لیکن یہ ثالثی دراصل بھارت کی التجا پر ہوئی۔


عالمی سطح پر پاکستان کا بڑھتا ہوا مقام

"مارکاِحق" نے نہ صرف فوجی طور پر بلکہ سفارتی طور پر بھی بھارت کی ناکامی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اب دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران امریکہ تنازعے میں پاکستان کے کردار نے بھارت کو علاقائی طور پر مزید الگ تھلگ کر دیا ہے۔


مستقبل کے خطرات: کیا اگلی جنگ زیادہ خطرناک ہوگی؟

اگرچہ فوجی کامیابی ملی، لیکن تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ اتنا محدود نہیں رہے گا۔ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی جنگ میں بیرونی طاقتوں کے لیے مداخلت کے مواقع کم ہوں گے اور یہ جنگ زیادہ تیز رفتار ہوگی۔ دریائے سندھ کا معاہدہ اب بھی التوا کا شکار ہے، جو پانی کی جنگ کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

مارکاِحق نے ثابت کر دیا کہ پاکستان "جھکنے والی قوم نہیں"۔ یہ فتح پوری قوم کی یکجہتی اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ تھی۔ تاہم، یہ کامیابی ایک قیمتی سبق بھی دیتی ہے: ۲۰۲۵ کی جھڑپ ایک انتباہ تھی۔ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہوگا اور پانی جیسے معاملات پر حکمت عملی سے کام لینا ہوگا، کیونکہ دشمن اگلی بار کسی اور چال سے آ سکتا ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ۲۰۲۵ کی جنگ میں پاکستان کو فتح ہوئی؟

جی ہاں، پاکستان نے مارکاِحق میں فضائی کارروائیوں کے دوران بھارت کے کئی جدید ترین طیارے مار گرائے اور بھارت کو جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور کیا، جسے پاکستانی میڈیا اور سفارت کار فیصلہ کن فتح قرار دیتے ہیں۔

بھارت نے دریائے سندھ کا معاہدہ کیوں معطل کیا؟

بھارت نے پہلگام حملے کے بعد بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے ۱۹۶۰ کا معاہدہ "التوا" میں ڈال دیا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے ڈیم بنا سکے، تاہم اس اقدام کو پاکستان نے جنگ کا اعلان قرار دیا۔

امریکہ نے جنگ بندی میں کیا کردار ادا کیا؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۱۰ مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا اور بار بار دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثالثی کی۔ اگرچہ بھارت نے اسے براہ راست فوجی رابطہ قرار دیا، لیکن پاکستان نے ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی