متحدہ عرب امارات: مصنوعی ذہانت اپنانے میں ۷۰.۱ فیصد کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر
مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت معاشیات انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ۱۵ سے ۶۴ سال کی عمر کے ۷۰.۱ فیصد افراد مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ شرح نہ صرف عالمی اوسط ۱۷.۸ فیصد سے کہیں زیادہ ہے بلکہ امارات کو اس فہرست میں پہلی معیشت بنا دیتی ہے جس نے ۷۰ فیصد کی حد عبور کی ہے۔ عالمی سطح پر صرف ۲۶ معیشتیں ۳۰ فیصد سے زیادہ کی مصنوعی ذہانت اپنائیت رکھتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟
امارات کی یہ کامیابی ایک دن میں نہیں ملی۔ پچھلے سال کے دوران ملک میں مصنوعی ذہانت اپنانے کی شرح ۵۹.۴ فیصد سے بڑھ کر ۶۴ فیصد اور پھر موجودہ ۷۰.۱ فیصد تک پہنچی ہے۔ یہ مسلسل ترقی بتاتی ہے کہ حکومت، کاروباری اداروں اور عوام نے مل کر ایک مضبوط ڈیجیٹل بنیاد تیار کی ہے۔ اماراتی حکومت نے ۲۰۱۷ میں مصنوعی ذہانت کے لیے علیحدہ وزارت قائم کر کے ایک عالمی مثال قائم کی تھی۔
🇦🇪 UAE Ranks First in the World in AI Adoption
— سيف الدرعي| Saif alderei (@saif_aldareei) May 8, 2026
Microsoft has revealed that the AI adoption rate in the United Arab Emirates reached 70.1% of the working-age population in the first quarter of 2026. This makes the UAE the first economy globally to surpass the 70% threshold.
The… pic.twitter.com/d4p9BEMvK3
دیگر ممالک کا کیا مقام ہے؟
امارات کے بعد سنگاپور ۶۳.۴ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں نمبر پر بالترتیب ناروے (۴۸.۶ فیصد)، آئرلینڈ (۴۸.۴ فیصد) اور فرانس (۴۷.۸ فیصد) موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ جہاں دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیاں موجود ہیں، وہاں شرح ۳۱.۳ فیصد کے ساتھ ۲۱ ویں نمبر پر ہے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنا اور اسے عوامی سطح پر اپنانا دو مختلف چیزیں ہیں۔
مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی میں کیسے شامل کیا جا رہا ہے؟
امارات میں مصنوعی ذہانت اب کوئی مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ یہ آج ہی کے کاموں میں استعمال ہو رہی ہے — دفتری امور، تعلیم، صحت، مالیات، ہوا بازی اور رسد کے شعبوں میں۔ کمپنیاں تحریر، تحقیق، ترجمہ، گاہک خدمات اور اعداد و شمار تجزیہ کے لیے مصنوعی ذہانت آلات استعمال کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے امارات کے جنرل منیجر امر کامل کے مطابق یہ ترقی طویل مدتی منصوبہ بندی اور مضبوط بنیادوں کا نتیجہ ہے۔
کیا امارات کا یہ سفر جاری رہے گا؟
مائیکروسافٹ نے امارات میں ۲۰۲۹ تک ۱۵.۲ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری بادل بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت ماڈلز اور مقامی صلاحیتوں کی تربیت پر خرچ ہوگی۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے — اعداد و شمار حکمرانی، برقی شبکہ تحفظ، دانشورانہ املاک کے تحفظ اور ملازمتوں پر اثرات جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ لیکن اتنا طے ہے کہ امارات نے جو مثال قائم کی ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک تحریک ہے۔
سوالات
سوال: متحدہ عرب امارات میں مصنوعی ذہانت اپنانے کی شرح کتنی ہے؟
جواب: مائیکروسافٹ کی پہلی سہ ماہی ۲۰۲۶ رپورٹ کے مطابق امارات میں کام کرنے والی ۱۵ سے ۶۴ سال کی آبادی کا ۷۰.۱ فیصد حصہ مصنوعی ذہانت آلات استعمال کرتا ہے۔
سوال: عالمی اوسط مصنوعی ذہانت اپنائیت کیا ہے؟
جواب: مائیکروسافٹ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ کی پہلی سہ ماہی میں عالمی اوسط ۱۷.۸ فیصد تھی۔
سوال: امارات کے بعد دوسرے نمبر پر کون سا ملک ہے؟
جواب: سنگاپور ۶۳.۴ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
سوال: مصنوعی ذہانت اپنانے میں پانچویں نمبر پر کون سا ملک ہے؟
جواب: فرانس ۴۷.۸ فیصد کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
سوال: کیا امریکہ اس فہرست میں سرفہرست ہے؟
جواب: نہیں، امریکہ ۳۱.۳ فیصد کے ساتھ ۲۱ ویں نمبر پر ہے۔ امارات اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔
سوال: امارات کی یہ کامیابی کیوں اہم ہے؟
جواب: یہ ظاہر کرتی ہے کہ وسائل سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ اگر دور اندیش پالیسیاں ہوں تو مصنوعی ذہانت کو عوامی سطح پر کس طرح اپنایا جا سکتا ہے۔

Comments
Post a Comment