متحدہ عرب امارات نے کر دکھایا: وہ اے آئی ٹیکنالوجی جو آپ کی بیماری آپ سے پہلے پکڑ لے
دبئی میں جاری عالمی صحت کی نمائش دبئی عالمی صحت نمائش ۲۰۲۶ اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے، لیکن اس سے پہلے ایمریٹس ہیلتھ سروسز نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین اطفال کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ ایمریٹس ہیلتھ سروسز نے ایک جدید ترین اے آئی دمہ کھوج آلہ متعارف کرایا ہے جو خاص طور پر بچوں میں دمہ اور سانس کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے سے تین سال قبل درست تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امارات میں پیش گوئی کرنے والی صحت کی سہولت کیسے کام کرتی ہے؟
درحقیقت، یہ آلہ "حس کرنا ہے پیش گوئی کرنا" کے وسیع تر پلیٹ فارم کا حصہ ہے۔ یہ نظام صرف مریض کی موجودہ علامات نہیں دیکھتا، بلکہ گذشتہ دس سال کے برقی صحت کے ریکارڈوں، جینیاتی ترتیب اور یہاں تک کہ پہنے جانے والے آلات سے حقیقی وقت میں اعداد و شمار حاصل کرتا ہے۔ مشین سیکھنے کے طریقہ کار بچے کے دل کی دھڑکن اور آکسیجن کی سطح میں معمولی سی کمی کو بھی نوٹ کرتا ہے، جسے انسانی آنکھ نظر انداز کر سکتی ہے۔
دبئی عالمی صحت نمائش ۲۰۲۶ میں ایمریٹس ہیلتھ سروسز کا نیا اے آئی آلہ بچوں میں دمہ کیسے پکڑتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ یہ آلہ عام خون کے تجربے سے کہیں زیادہ موثر ہے۔ ایک بار جب اے آئی خطرے کی درجہ بندی کا نظام کسی بچے میں دمہ کا خطرہ پچاسی فیصد سے زیادہ جانچ لیتا ہے، تو کوئی انسانی عمل درکار نہیں ہوتا۔ ایک خودکار اے آئی کارندہ فوری طور پر مریض کے صحت نامے کو تازہ کرتا ہے، قریبی ایمریٹس ہیلتھ سروسز مرکز میں تجربات بک کروا دیتا ہے، اور والدین کو فوری اطلاع بھیج دیتا ہے۔ یہ سب کچھ چند سیکنڈوں میں طے پاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بچوں کے انفیکشن کی تشخیص کا نیا طریقہ کیا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آلہ صرف دمہ کے لیے ہے؟ جواب ہے، ہرگز نہیں۔ یہ نظام جراثیمی اور وبائی انفیکشنوں میں بھی فرق کر سکتا ہے، اور پھیپھڑوں میں سوزش کی نشاندہی انفیکشن پھیلنے سے کئی مہینے قبل کر دیتا ہے۔ یہ "خاندان کا سال ۲۰۲۶" کے قومی ہدف کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس کا مقصد اسپتالوں میں داخلے کی شرح میں تیس فیصد کمی لانا ہے۔
کیا اے آئی آلہ واقعی تین سال پہلے بیماری کی پیش گوئی کر سکتا ہے؟
برطانیہ کی قومی صحت خدمت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل یہ پیش گوئیاں صرف محدود پیمانے پر ممکن تھیں [لنک خارجی: برطانوی قومی صحت خدمت کی رپورٹ پیش گوئی الگورتھم پر]۔ لیکن ایمریٹس ہیلتھ سروسز نے دبئی عالمی صحت نمائش ۲۰۲۶ میں جو نظام پیش کیا ہے، وہ کئی طریقوں کے اعداد و شمار کو ملا کر کام کرتا ہے۔ یعنی یہ ایک ساتھ جینیات، ماحول، خاندانی تاریخ اور پہنے جانے والے آلات کے اعداد و شمار کو ملا کر ایک مکمل تصویر بناتا ہے۔
دبئی عالمی صحت نمائش ۲۰۲۶ میں متحدہ عرب امارات کی صحت کی حکمت عملی کیا ہے؟
اسی تناظر میں، متحدہ عرب امارات صرف بیماری کا علاج نہیں بلکہ اس کی روک تھام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کا اے آئی اسے اپنی قومی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے پانچ سالوں میں متحدہ عرب امارات دنیا کا پہلا ملک ہو گا جہاں پیدائش کے وقت ہر بچے کو ایک عددی صحت کا جڑواں مہیا کیا جائے گا۔ یہ محض ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے ایک نئی سحر ہے۔
عمومی سوالات
سوال: کیا یہ اے آئی آلہ متحدہ عرب امارات کے تمام شہریوں کے لیے دستیاب ہے؟
جواب: جی ہاں، یہ سہولت ایمریٹس ہیلتھ سروسز کے تحت تمام بنیادی صحت مراکز میں یکم اپریل ۲۰۲۶ سے مرحلہ وار لاگو کی جا رہی ہے، جس سے تمام شہری اور رہائشی مستفید ہو سکیں گے۔
سوال: کیا یہ آلہ بچوں کی رازداری کی خلاف ورزی تو نہیں کرتا؟
جواب: بالکل نہیں۔ تمام اعداد و شمار متحدہ عرب امارات کے سخت ترین شبہ تحفظ قوانین کے تحت خفیہ رکھا جاتا ہے اور والدین کی تحریری رضامندی کے بغیر کوئی اعداد و شمار شیئر نہیں کیا جاتا۔
سوال: کیا یہ آلہ حفاظتی ٹیکوں کی جگہ لے گا؟
جواب: ہرگز نہیں۔ یہ آلہ حفاظتی ٹیکوں کی تکمیل کرتا ہے، اسے تبدیل نہیں کرتا۔ یہ صرف ان بچوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں مستقبل میں زیادہ طبی امداد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment