پاکستان میں پیٹرول مہنگا — عوام پر بجھتا ہوا نیا بوجھ
پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ جمعہ ۲۵ اپریل ۲۰۲۶ کو حکومت نے ایک بار پھر ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ۲۷ روپے بڑھ کر ۳۹۳.۳۵ روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل ۳۸۰.۱۹ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے ۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، بلکہ حکومت نے خود ہی پیٹرولیم لیوی میں ۲۷ روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ۔
یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کے لیے یہ خبر صدمے سے کم نہیں۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر موجود موٹرسائیکل سوار سے لے کر ٹرک ڈرائیور تک، ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ آخر یہ پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کا سلسلہ کب رکے گا؟
ایران اور امریکہ کی جنگ: تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ بحران کہاں سے شروع ہوا؟ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو ایران اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی ۔ اس تنازعے نے خلیج میں واقع آبنائے ہرمز کو ایک گرم تنازعہ بنا دیا ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی تقریباً ۲۰ فیصد سمندری تیل کی ترسیل کا راستہ ہے ۔ ایران نے اپنے مخالفین کے لیے اس راستے کو روک دیا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اس تنازعے کے باعث خام تیل کی قیمتیں ۸۰ سے ۹۰ فیصد تک بڑھ چکی ہیں ۔ پاکستان جیسا ملک جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، قدرتی طور پر اس بحران کی زد میں آ گیا۔
پاکستان میں پیٹرول مہنگا: کیا آئی ایم ایف کا بھی ہاتھ ہے؟
اسی تناظر میں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول مہنگا کرنے کے پیچھے صرف ایران جنگ ہی وجہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے شرائط بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے ۷ ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم لیوی کو بڑھانے کا وعدہ کیا تھا ۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ایندھن پر ٹیکس (پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی) کو بڑھانا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا حصہ ہے۔ فی الحال پیٹرول پر لیوی ۱۰۷.۴ روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے جبکہ مجموعی ٹیکس تقریباً ۱۳۴ روپے بنتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو قیمت ادا کر رہے ہیں، اس کا بڑا حصہ ایندھن کی اصل قیمت نہیں بلکہ ٹیکس ہے۔
Pakistan Government increased Petroleum product prices, Petrol & diesel both by PKR 26.77/ltr, NEW prices will be PKR 393.35/ltr & PKR 380.19/ltr respectively pic.twitter.com/HlLFXvr2kE
— PakWheels.com (@PakWheels) April 24, 2026
مہنگے پیٹرول کا عام آدمی پر کیا اثر پڑے گا؟
پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کے اثرات صرف گاڑیوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا دھماکہ ہے جو پوری معیشت کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایک طرف تو ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھیں گے تو دوسری طرف اشیائے خوراک کی قیمتیں بھی آسمان کو چھوئیں گی۔
ذرائع کے مطابق، پچھلے کچھ ہفتوں میں ٹرانسپورٹ لاگت پہلے ہی ۱۲ فیصد بڑھ چکی ہے ۔ اب ایک نئے اضافے کے بعد مہنگائی کی شرح ۱۰ سے ۱۲ فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی کے مارے بے حال ہے، اس فیصلے نے اس کی کمر توڑ دی ہے۔
آئندہ ہفتے پیٹرول کی قیمت کیا ہوگی؟
سوال یہ ہے کہ کیا یہی صورت حال برقرار رہے گی؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج میں جنگ بندی نہ ہوئی اور آبنائے ہرمز بحران برقرار رہا تو آئندہ ہفتے پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی حکومت ایک اور ۵۳ روپے فی لیٹر لیوی بڑھانے پر غور کر رہی ہے ۔
تاہم ایک امید کی کرن یہ ہے کہ ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ۲۴ اپریل کو اسلام آباد پہنچا ہے اور امریکی نمائندے بھی مذاکرات کے لیے یہاں موجود ہیں ۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو گئے تو ممکن ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے اور قیمتیں استحکام کی طرف لوٹیں۔
کیا حکومت مہنگے پیٹرول کے خلاف ریلیف فراہم کر سکتی ہے؟
درحقیقت حکومت نے ابتدا میں قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے ۱۲۹ ارب روپے کی سبسڈی دی تھی ۔ لیکن یہ رقم ختم ہو چکی ہے۔ اب وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پیٹرول مہنگا کر کے عوام کے کندھے نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔
صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد حکومت نے کچھ ٹارگٹڈ سبسڈیز کا اعلان کیا ہے۔ موٹرسائیکل سواروں کو ۱۰۰ روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، لیکن یہ صرف ۲۰ لیٹر ماہانہ تک محدود ہے ۔ ایک عام کراچی والے کے لیے جو روزانہ دفتر جاتا ہے، یہ سبسڈی محض دس دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ پوری قیمت خود ادا کرے گا۔
ایران جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئی ہیں؟
اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے تو خام تیل کی قیمتیں فی بیرل ۱۱۰ ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں ۔ مارچ ۲۰۲۶ کے اختتام تک بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ۴۶ ڈالر فی بیرل کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اسی لیے پاکستان جیسے درآمد کنندہ ملک پر براہ راست اثر پڑنا لازمی تھا۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے اوگرا کے طے کردہ فارمولے کو نظر انداز کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار حکومت پر تنقید کر رہے ہیں کہ اس نے بحران کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستان نے آبدوزوں کے ذریعے تیل درآمد کرنے کا منصوبہ کیوں بنایا؟
جی ہاں، اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے آبدوزوں کے ذریعے تیل درآمد کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ یہ منصوبہ ایران کے ساتھ ۲۰ پاکستانی جھنڈے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کے معاہدے کے بعد سامنے آیا ۔
یہ ایک منفرد سفارتی کامیابی ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران دونوں سے دوستی کی ہے اور بحران میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ۲۰ بحری جہاز اس بھیڑ کا کوئی خاص حصہ نہیں جہاں روزانہ ۲۰ ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ یہ ایک علامتی کامیابی ہے، لیکن عملی مسائل بدستور قائم ہیں۔
سوالات و جوابات (FAQs)
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟
پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، ایران امریکہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش جس نے عالمی تیل کی قیمتیں ۸۰ فیصد تک بڑھا دیں۔ دوسری، آئی ایم ایف کے شرائط کے تحت حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں ۲۷ روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے تاکہ ٹیکس محصولات بڑھائے جا سکیں ۔
ایران اور امریکہ کی جنگ کا پاکستان کی معیشت پر کیا اثر ہوا ہے؟
اس جنگ کا پاکستان پر تین گنا اثر ہوا ہے۔ پہلا، تیل کی درآمدی لاگت بڑھنے سے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا۔ دوسرا، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو ۱۲ فیصد تک پہنچا دیا۔ تیسرا، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ آیا ہے جس سے معیشت غیر مستحکم ہوئی ہے ۔
کیا حکومت مہنگے پیٹرول کے خلاف ریلیف فراہم کر سکتی ہے؟
حکومت نے ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت موٹرسائیکل سواروں کو ۱۰۰ روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی لیکن صرف ۲۰ لیٹر ماہانہ تک۔ چھوٹے کسانوں کو ۱۵۰۰ روپے فی ایکڑ امداد دی جائے گی ۔ تاہم یہ ریلیف مہنگائی کے حساب سے بہت کم ہے۔
آئندہ ہفتے پیٹرول کی قیمت کیا ہوگی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج میں جنگ بندی نہ ہوئی تو آئندہ ہفتے پیٹرول کی قیمت میں مزید ۱۰ سے ۱۵ روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر ایران امریکہ مذاکرات کامیاب ہو گئے اور آبنائے ہرمز کھل گئی تو قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے ۔

Comments
Post a Comment