آبنائے ہرمز کھل گئی، مہنگائی کم ہوگی؟ ایک تجزیاتی جائزہ


آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس اور بحیرہ عرب کو ملاتی ہے، دنیا کی سب سے اہم تیل کی راہداری ہے۔ دنیا کی تقریباً ۲۰ فیصد سمندری تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے ۔ پاکستان جیسا کہ ۸۰ سے ۸۵ فیصد خلیجی ممالک پر منحصر ہے، اس آبی گزرگاہ کی بندش نے اسے شدید متاثر کیا ۔ مارچ ۲۰۲۶ میں جب امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی، تو اس راستے کی بندش نے پاکستان کے توانائی بحران کو جنم دیا ۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق، ایک ماہ کی بندش کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت ۹۲ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر ۱۱۰ ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی تھی ۔ اس کا براہ راست اثر پاکستان کی درآمدی لاگت پر پڑا۔ ایک تخمینے کے مطابق، تیل کی قیمت میں ۱۰ ڈالر فی بیرل کا اضافہ پاکستان کے سالانہ درآمدی بل میں ۱.۸ سے ۲ ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہے ۔ اس صورتحال نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط اور عوام کے دباؤ کے درمیان مشکلات میں ڈال دیا ۔

ڈیزل کی قیمت میں کمی سے عام آدمی کی جیب پر کیا فرق پڑے گا؟

حکومت نے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ کو ڈیزل کی قیمت ۳۸۵.۵۴ روپے سے کم کر کے ۳۵۳.۴۳ روپے کر دی ۔ یہ کمی اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن کیا یہ عام آدمی کے لیے کافی ہے؟ ڈیزل کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ یہ مال برداری، بسوں، ٹرکوں اور زرعی مشینری (ٹیوب ویل، ٹریکٹر) میں استعمال ہوتا ہے۔

جب ڈیزل سستا ہوتا ہے تو اشیائے خور و نوش کو ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے والے ٹرکوں کا کرایہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح سبزی، پھل، اور اناج کی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔ لہٰذا، ڈیزل کی یہ کمی براہ راست آپ کی باورچی خانے کی مصروفیات پر اثرانداز ہوگی۔ تاہم، یہ کمی اتنی بڑی نہیں ہے کہ مہنگائی کی جو آگ بھڑکی ہے اسے بجھا سکے ۔ مارچ میں ڈیزل کی قیمت میں ۱۸۴ روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا تھا، اور اب صرف ۳۲ روپے کی کمی اس صدمے کو جلد ازالہ نہیں کر سکتی ۔


آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کیوں کم نہیں ہوئی؟

یہ وہ سوال ہے جو ہر موٹرسائیکل اور کار مالک کے ذہن میں ہے۔ جب ڈیزل سستا ہو سکتا ہے تو پیٹرول کیوں نہیں؟ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، حکومت پر پٹرولیم لیوی وصول کرنے کا دباؤ ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو محصولات کا ہدف پورا کرنے کے لیے پیٹرول پر زیادہ ٹیکس رکھنا پڑتا ہے ۔ دوسری، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرائط کے تحت حکومت سبسڈی نہیں دے سکتی، اس لیے عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمت ۴۵۸ روپے تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد عوامی دباؤ پر حکومت نے پٹرولیم لیوی میں ۸۰ روپے فی لیٹر کی کٹوتی کی اور قیمت ۳۸۰ روپے کر دی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پیٹرول کی قیمت وہی ہے جو بحران کے دوران تھی، جبکہ عالمی منڈیوں میں تیل سستا ہو چکا ہے۔


ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے سے بجلی کا بحران کیسے کم ہوگا؟

آبنائے ہرمز کی بندش کا سب سے بڑا نقصان ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی ترسیل کو ہوا۔ ذرائع کے مطابق، مئی ۲۰۲۶ تک پاکستان آنے والے ۲۲ ایل این جی جہاز بندش کی وجہ سے روک دیے گئے تھے ۔ اس کی وجہ سے گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا اور بجلی کی قلت بھی شدید ہو گئی تھی ۔

اب جب یہ آبی گزرگاہ کھل گئی ہے تو توانائی کے وزیر کے مطابق، ایل این جی کی فراہمی بحال ہو جائے گی، جس سے بجلی کی پیداوار بڑھے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گرمیوں کی شدت میں بجلی کے لوڈ شیڈنگ میں کمی آسکتی ہے، جس سے صنعتوں اور گھریلو صارفین کو فائدہ ہوگا۔


آبنائے ہرمز کی بحالی کے بعد کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں پر کیا اثر ہوگا؟

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، ڈیزل کی قیمت میں کمی براہ راست ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو متاثر کرتی ہے۔ جب ٹرک مالکان کا ایندھن سستا ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی مصنوعات کی قیمت میں کمی کر سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کمی فوری طور پر نظر نہیں آئے گی۔

مارکیٹ میں موجود اسٹاک وہی پرانا ہے جو مہنگے ایندھن سے لایا گیا تھا۔ نئی فصلوں کی آمد یا نئے آرڈرز پر جب ٹرانسپورٹ ہوگی، تب قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آئے گی۔ لیکن بدقسمتی سے، جہاں ڈیزل سستا ہوا ہے، وہیں زراعت میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کی قیمتوں میں کمی کا عمل سست ہے۔ حکومت نے کسانوں کے لیے فی ایکڑ ۱۵۰۰ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ رقم گندم اور سبزیوں کی قیمتوں کو براہ راست متاثر کرنے کے لیے بہت کم ہے ۔


پاکستان کا سفارتی کردار اور مستقبل کی راہیں

آبنائے ہرمز کی بحالی میں پاکستان کا سفارتی کردار کلیدی تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے درمیان روابط نے جنگ بندی کو ممکن بنایا ۔ پاکستان نے نہ صرف ایران کو یقین دہانی کرائی بلکہ امریکہ کو بھی اسرائیلی کارروائیوں پر قابو رکھنے پر آمادہ کیا ۔

آبنائے ہرمز کی بحالی پاکستان کے لیے ایک موقع ہے، لیکن یہ واحد حل نہیں۔ ڈیزل کی قیمت میں ۳۲ روپے کی کمی ایک اچھی شروعات ہے، لیکن یہ گزشتہ دو ماہ میں ہونے والے ۲۰۰ روپے سے زائد کے اضافے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ عوام کو مکمل ریلیف اس وقت ملے گا جب حکومت پٹرولیم لیوی میں مزید کمی کرے گی، ایل این جی کی مکمل ترسیل بحال ہو جائے گی، اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مزید مستحکم ہوں گی۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی متوقع ہے؟

جواب: توانائی کے وزیر کے مطابق، آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہے۔ تاہم، یہ کمی عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور ڈالر کی قدر پر منحصر ہے۔ اگر تیل کی قیمت مزید گرتی ہے تو حکومت کے پاس ریلیف دینے کی گنجائش بڑھ جائے گی ۔

سوال: کیا پاکستانی حکومت نے مہنگائی میں ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم لیوی میں کمی کی؟

جواب: جی ہاں، عوامی دباؤ پر حکومت نے پٹرولیم لیوی میں ۸۰ روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی، جس سے پیٹرول ۴۵۸ سے کم ہو کر ۳۸۰ روپے ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی پیٹرول پر ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے ۔

سوال: آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر کیا اثر ہوا؟

جواب: ماہرین کے مطابق، تین ماہ کی بندش کی صورت میں پاکستان کا ماہانہ تیل درآمدی بل ۳.۵ سے ۴.۵ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا تھا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ۔ بحالی کے بعد یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

سوال: کیا آبنائے ہرمز کھلنے سے پاکستان میں ایل پی جی (سلنڈر) کی قیمت کم ہوگی؟

جواب: جی ہاں، جیسے جیسے ایل این جی کی سپلائی بحال ہوگی، گیس کی قلت کم ہوگی جس سے ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی