عالمی عدالتِ انسانی حقوق کا تاریخی فیصلہ – ایران کے حملوں پر بین الاقوامی مذمت
جنیوا میں منعقدہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ۶۱ویں اجلاس میں ایک تاریخی اور متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں ایران کی طرف سے خلیجی تعاون کونسل (گلف کوآپریشن کونسل) کی رکن ریاستوں اور اردن ہاشمی سلطنت پر کیے گئے غیر منصفانہ حملوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد ایران کے حملوں پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے اور متاثرہ ممالک کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کیا ہے؟
یہ قرارداد، جس کا عنوان "ایران کی طرف سے شروع کی گئی حالیہ فوجی جارحیت کے اثرات" ہے، بحرین کی جانب سے گلف کوآپریشن کونسل ریاستوں اور اردن کی نمائندگی میں پیش کی گئی ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۱۰۰ سے زائد ممالک نے اس قرارداد کی مشترکہ طور پر حمایت کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایرانی جارحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ قرارداد کو بغیر کسی ووٹ کے متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جو اس اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ایران نے خلیجی ریاستوں پر حملے کیوں کیے؟
ذرائع کے مطابق، یہ حملے علاقائی تنازعات کے دوران ایران کی طرف سے جوابی کارروائی کا حصہ تھے۔ تاہم، خلیجی ریاستوں اور اردن نے ان تنازعات میں غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا ہوا تھا ۔ اقوام متحدہ کی قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ریاستوں پر حملے، جو کسی بھی مسلح تصادم کا حصہ نہیں تھیں، بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرائے جا سکتے ۔
اردن پر ایرانی حملوں میں کتنے شہری ہلاک ہوئے؟
اردن کے نمائندے نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ۲۸ فروری سے اب تک اردنی افواج نے ایران کی طرف سے لانچ کیے گئے ۲۴۰ سے زائد میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنایا ۔ تاہم، اس دوران گرنے والے ملبے کے نتیجے میں اردن میں ۲۴ شہری جاں بحق ہوئے ۔ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں شہری آبادی کو بلا امتیاز نشانہ بنایا گیا۔
آبی ڈی سیلینیشن پلانٹس پر حملوں کے انسانی حقوق پر کیا اثرات ہیں؟
قرارداد میں خاص طور پر پانی کی ڈی سیلینیشن پلانٹس، توانائی کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ قطر کی نمائندے ڈاکٹر ہند عبدالرحمن المفتاح نے کہا کہ ان حملوں سے بنیادی انسانی حقوق جیسے کہ زندگی کا حق، صحت اور صاف پانی تک رسائی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے ماحولیاتی تباہی کا سبب بنتے ہیں، جس سے خواتین، بچوں اور معذور افراد زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔
قرارداد ۲۸۱۷ میں ایران پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟
سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۱۷، جو اس سے قبل منظور ہو چکی ہے، ایران پر زور دیتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے ۔ اس کے علاوہ، انسانی حقوق کونسل کی نئی قرارداد ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تمام متاثرین کو فوری، مؤثر اور مکمل معاوضہ ادا کرے ۔ قرارداد میں ایران کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی پاسداری کرے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تجارت کو کیا خطرات لاحق ہیں؟
قرارداد میں آبنائے ہرمز میں بحری تجارت میں رکاوٹوں کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے ۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے، اور اسے بند کرنے کی دھمکیوں سے عالمی تجارت، سپلائی چینز اور توانائی کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں عالمی معیشت کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل اور متحدہ عرب امارات کا کردار
گلف کوآپریشن کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اس قرارداد کے حق میں ووٹنگ کو "بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایرانی جارحیت کو واضح مسترد" قرار دیا ۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اس قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ۱۳۵ ممالک کی مشترکہ حمایت ایک واضح پیغام ہے کہ دنیا شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کو برداشت نہیں کرے گی ۔ متحدہ عرب امارات نے عالمی قانون کے احترام اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ایران کو واقعی معاوضہ ادا کرنا ہوگا؟
جی ہاں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی قرارداد واضح طور پر ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا مکمل معاوضہ فراہم کرے ۔
سوال: کیا یہ قرارداد سلامتی کونسل کی قرارداد سے مختلف ہے؟
جی ہاں، سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۱۷ امن و سلامتی پر مرکوز تھی، جبکہ انسانی حقوق کونسل کی قرارداد شہریوں پر پڑنے والے اثرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیتی ہے ۔
سوال: کون سے ممالک اس قرارداد کے خلاف تھے؟
یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی، یعنی کسی بھی رکن ریاست نے اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا ۔ تاہم سلامتی کونسل کی قرارداد پر روس اور چین نے ووٹنگ سے گریز کیا تھا ۔
سوال: کیا یہ حملے اب بھی جاری ہیں؟
اقوام متحدہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر تمام حملے اور دھمکیاں بند کرے ۔

Comments
Post a Comment