آبنائے ہرمز سے لے کر تہران تک: نئی عالمی جنگ کے تزویراتی نقوش
مشرق وسطیٰ میں جاری نئی کشیدگی نے دنیا کے طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ محض ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی جھڑپ نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حکمت عملی کا وہ امتحان ہے جس میں عالمی قیادت کے تمام پرانے فارمولے بے کار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ درحقیقت، امریکہ کا کردار اب اختیاری نہیں رہا بلکہ یہ عالمی نظام کے تسلسل کی ضمانت بن چکا ہے۔ اگر واشنگٹن کمزور یا تاخیری ردعمل دیتا ہے تو یہ خطے میں طاقت کا مکمل توازن بگاڑ دے گا۔ موجودہ صورتحال میں امریکی قیادت کا امتحان اس بات میں ہے کہ وہ نہ صرف روک تھام کر سکے بلکہ جنگ کے حتمی منظرنامے کی وضاحت بھی کرے ۔
اسرائیل براہ راست جنگ میں کس طرح مصروف ہے؟
جب دنیا اسرائیل کو امریکہ کا محض ایک ایجنٹ سمجھتی ہے، تو حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اسرائیل اس جنگ میں محض ایک معاون کے طور پر نہیں بلکہ براہ راست میدان جنگ کا سب سے اہم فریق ہے۔ تل ابیب کی فوجی کارروائیاں اس کی اپنی اسٹریٹجک گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں وہ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل کے پاس طویل مدتی سیاسی حکمت عملی ہے یا وہ صرف فوجی برتری پر انحصار کر رہا ہے؟ یہی فرق مستقبل میں خطے کے امن و امان کا تعین کرے گا۔ اسرائیل کا عزم ایک نیا تاریخی ثبوت قائم کر رہا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی حفاظتی حدود کو برقرار رکھے گا، چاہے اس کے لیے علاقائی جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اگلا بڑا دھماکہ آبنائے ہرمز پر ہوگا۔ یہ پتلا راستہ، جہاں سے دنیا کی ۲۰ فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، اس جنگ کا سب سے اہم اقتصادی ہتھیار ہے ۔ اسی تناظر میں، اگر ایران نے اس آبنائے کو بند کیا یا وہاں کوئی معمولی جھڑپ بھی ہوئی تو تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی، جس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی ایک بار پھر قابو سے باہر ہو جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حکمت عملی کا یہ سب سے بڑا داؤ ہے۔ ایران جانتا ہے کہ وہ روایتی جنگ میں تو براہ راست امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر کے وہ پوری عالمی معیشت کو یرغمال
بنا سکتا ہے۔
بنا سکتا ہے۔
کیا یہ جنگ صرف ایران تک محدود رہے گی یا خطے میں پھیل جائے گی؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ جنگ محض ایران اور اسرائیل کے درمیان تھی، لیکن اب یہ ایک وسیع تر علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق آذربائیجان، سعودی عرب اور ترکی میں بھی میزائل اور ڈرون حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن کا الزام ایران پر لگایا گیا ۔ تاہم، ڈیجیٹل تفتیشوں نے ان الزامات کی صداقت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ شبہ ہو رہا ہے کہ یہ حملے ایران نے نہیں بلکہ کسی اور عنصر نے کرائے ہیں تاکہ پورے خطے کو آگ لگائی جا سکے۔ یہ وہ موڑ ہے جہاں ایک محدود جنگ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اس جنگ کا طویل مدتی سیاسی انجام کیا ہوگا؟
ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ اس جنگ کا حقیقی فیصلہ میدان جنگ میں نہیں بلکہ تہران کی گلیوں میں ہوگا۔ فوجی کامیابی حاصل کرنا اور اسٹریٹجک فتح حاصل کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والے جذباتی طوفان نے ایرانی معاشرے کو متحد کر دیا ہے ۔ اگر امریکہ اور اسرائیل یہ سوچ رہے تھے کہ بیرونی دباؤ ایرانی نظام کو گرائے گا، تو اب یہ نظریہ غلط ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ طویل مدت میں، اس جنگ کا انجام ایران کے اندرونی سیاسی استحکام پر منحصر ہے، نہ کہ بیرونی بمباری پر۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اصل کمزوری کیا ہے؟
جواب: امریکہ کی اصل کمزوری اس کی عوامی رائے اور اندرونی سیاست ہے۔ جیسے جیسے یہ جنگ لمبی ہو رہی ہے، امریکی شہریوں میں عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ اب یکطرفہ طور پر جنگ نہیں لڑ سکتا، اسے اپنے اتحادیوں کا ساتھ چاہیے جو اس بار مکمل طور پر متحد نہیں ہیں ۔
سوال: اسرائیل اس جنگ میں کس حد تک جاسکتا ہے؟
جواب: اسرائیل نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی اپنی حفاظت سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، تاہم طویل مدتی قبضہ یا زمینی جنگ اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔
سوال: آبنائے ہرمز کی بندش کتنی حقیقت پسندانہ ہے؟
جواب: یہ ایران کا آخری ہتھیار ہے۔ اگر ایران کو شدید خطرہ محسوس ہوتا ہے یا اس کا وجود ہی خطرے میں آ جاتا ہے، تو وہ اس آبنائے کو بند کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ اس سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھیں گی بلکہ عالمی تجارت مفلوج ہو جائے گی ۔
سوال: کیا چین یا روس اس جنگ میں مداخلت کریں گے؟
جواب: ابھی تک چین اور روس نے سفارتی بیانات پر اکتفا کیا ہے، لیکن اگر یہ جنگ ان کے مفادات کو براہ راست نقصان پہنچانے لگے تو وہ بھی اپنی پوزیشن واضح کریں گے۔ تاہم، فی الحال وہ براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہے ہیں ۔

Comments
Post a Comment