پاکستان اور ازبکستان: معاشی شراکت داری کی نئی بلندیوں کی طرف.

وزیراعظم شہباز شریف اور ازبک صدر شوکت میرضیائیف کی موجودگی میں اسلام آباد میں ہونے والا پاکستان-ازبکستان بزنس فورم ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اب دونوں ممالک کے تعلقات کی پیمائش تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی شراکتوں اور عوامی تبادلوں سے کی جائے گی، جو ایک حقیقت پسندانہ اور مستقبل کی طرف دیکھنے والا نقطہ نظر ہے۔ دو ارب ڈالر کا دو طرفہ تجارتی ہدف طے کیا گیا ہے، جو اگلے چند سالوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر جب ازبک صدر نے پاکستانی کاروباریوں کو دس سال کی ٹیکس چھوٹ اور دیگر سہولیات کی پیشکش کی ہے۔ تین ارب چالیس کروڑ ڈالر کے ممکنہ بزنس معاہدوں کا اعلان بھی حوصلہ افزا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو پانچ سالہ روڈ میپ تیار کرے گا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق و ترقی، آئی ٹی اور زراعت جیسے شعبوں میں تعاون شامل ہو گا۔ ٹورزم کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ سب اقدامات پاکستان کی معیشت کو نئی توانائی دے سکتے ہیں اور ازبکستان کو وسطی ایشیا تک رسائی کا گیٹ وے بنا کر علاقائی معاشی انضمام کو فروغ دیں گے۔


صدر آصف علی زرداری کی ازبک صدر سے ملاقات میں بھی کنیکٹیویٹی، تجارت اور عوامی رابطوں پر زور دیا گگیا ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے پروجیکٹ کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا، جو علاقائی تجارت اور ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ براہ راست فلائٹس کی تعداد چھ تک بڑھانے کا فیصلہ لوگوں کے درمیان رابطوں کو مزید آسان بنائے گا، جو سیاحت اور کاروبار دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دفاع، سیکیورٹی، ثقافت اور ورثے میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ ہائی لیول سٹریٹجک کوآپریشن کونسل کا افتتاحی اجلاس بھی اس دورے کا اہم حصہ تھا، جو اعلیٰ سطح پر نگرانی اور رہنمائی فراہم کرے گا۔ جوائنٹ کمیونیک میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کی حمایت کا اعادہ کیا، اور افغانستان میں امن کی اہمیت پر زور دیا، کیونکہ یہ پروجیکٹس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ یہ دورہ دکھاتا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان اب صرف تاریخی رشتوں پر نہیں بلکہ عملی معاشی اور سٹریٹجک شراکت پر توجہ دے رہے ہیں۔


مجموعی طور پر یہ دورہ پاکستان-ازبکستان تعلقات میں ایک نئی فصل کا آغاز ہے، جہاں مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر آگے بڑھا جا رہا ہے۔ $2 بلین کا تجارتی ہدف، صنعتی زونز کا قیام، علاقائی فورمز اور کنیکٹیویٹی پروجیکٹس سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے کہ یہ معاہدے جلد عملی شکل اختیار کریں گے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط رابطوں کو مزید مستحکم کریں گے۔ یہ نہ صرف معاشی ترقی بلکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے، جو دونوں برادر ممالک کے لیے خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی