جنوبی ایشیا کو ٹکراؤ سے نکال کر تعاون کی جانب لانے کی ضرورت-
اسلام آباد میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو دہائیوں پر محیط محاذ آرائی اور تناؤ سے آگے بڑھ کر مشترکہ تعاون اور بامقصد مکالمے کی راہ اپنانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرد جنگ کے دوران جنوبی ایشیا کو نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث خطے کو امن کے ثمرات نہیں مل سکے اور آج یہ ممالک اپنے مستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
### **’ہم تصادم کے دائرے میں کیوں رہیں؟‘ اسحاق ڈار کا سوال**
تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ خطہ اس قابل ہے کہ ترقی، خوشحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو، بشرطیکہ ممالک صفر جمع ذہنیت (zero-sum) سے نکل کر مکالمے، پرامن بقائے باہمی، اقتصادی باہمی انحصار اور باہمی فائدے کے اصولوں کو اپنائیں۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر واضح پیغام دیا کہ دشمنی کی بجائے تعاون کا راستہ ہی جنوبی ایشیا کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کھلے اور جامع علاقائی تعاون پر مبنی ڈھانچہ ہی دیرپا ترقی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
### **سارک کو فعال بنانے اور خطے کی تقدیر بدلنے کی اپیل**
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے سارک کو علاقائی رابطے اور ترقی کے لیے بہترین فورم سمجھتا ہے، مگر ’’مصنوعی رکاوٹوں‘‘ نے اس کی مؤثر کارکردگی کو محدود کر رکھا ہے۔ انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور خطے میں تعاون کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈار کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی ایشیائی ممالک مکالمے کو ترجیح دیں اور ٹکراؤ سے گریز کریں تو خطہ بھی دنیا کے دیگر خطوں کی طرح ترقی، انضمام اور معاشی مضبوطی کی نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment