پاکستان اور ترکیہ کا توانائی تعاون: نئی شراکت داری کی بنیاد-
پاکستان اور ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے وزیرِ توانائی الپ ارسلان بایراکتار کے درمیان ہونے والی ملاقات میں گہرے اور جامع تبادلہ خیال ہوا، جس میں دونوں ملکوں نے مشترکہ اہداف اور علاقائی استحکام کے لیے مزید مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔ پاکستان طویل عرصے سے اپنے غیر دریافت شدہ تیل و گیس کے ذخائر کو بروئے کار لانے کا خواہاں ہے، اور ترکیہ کی دلچسپی اس سمت میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
**ڈیپ سی ڈرلنگ اور مشترکہ توانائی منصوبوں کی جانب پیش قدمی**
ترکیہ کے وزیرِ توانائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک پہلی بار پاکستان میں ڈیپ سی ڈرلنگ کے مشترکہ منصوبے کے معاہدے کے قریب ہیں، جو توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں گہرے سمندر میں تلاش کا کوئی منصوبہ کامیابی سے آگے نہیں بڑھ سکا، تاہم ترکیہ کی تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ یہ خواب حقیقت بننے کے قریب ہے۔ منصوبہ بندی کے مطابق تعاون کا آغاز دو زمینی بلاکس اور ایک آف شور زون میں تحقیق و تلاش سے ہوگا، جو مستقبل میں وسیع تر منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔
**دفاعی شراکت داری اور اسٹریٹجک روابط کا فروغ**
توانائی کے شعبے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں، تربیتی پروگرام اور تکنیکی تعاون کے ذریعے اپنی شراکت داری کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ پاکستان ترکیہ سے چار کورویٹ جہاز حاصل کر رہا ہے، جن میں سے دو کراچی شپ یارڈ میں ترکیہ کی تکنیکی معاونت سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد نے ترکیہ کے جدید ڈرونز اور دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدت اسٹریٹجک تعاون کی مضبوط بنیاد کی نشاندہی کرتا ہے۔
Comments
Post a Comment