پاکستان اور یورپی یونین: جی ایس پی پلس فریم ورک میں تعاون کی نئی جہتیں

پاکستان نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت اپنی وابستگی ایک بار پھر دوہرائی ہے، جسے حکمرانی میں اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی اور پائیدار ترقی کی طرف ایک اہم پیش قدمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ای یو مانیٹرنگ وفد سے ملاقات میں اس شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا، جہاں پاکستان نے انسانی حقوق کے تحفظات، عالمی معیار سے مطابقت اور قانون سازی میں ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ جی ایس پی پلس نے نہ صرف تجارت بلکہ سماجی فلاح اور قانونی اصلاحات کو بھی تقویت دی ہے۔


حکام کے مطابق 2014 سے اب تک خواتین، بچوں، مزدوروں، معذور افراد اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں قانون سازی کی گئی ہے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس سمیت اہم اداروں کی خود مختاری برقرار ہے، جبکہ انسانی حقوق اور کاروبار کے لیے قومی ایکشن پلان پر وفاقی و صوبائی سطح پر عمل درآمد جاری ہے۔ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات—جیسے نیشنل جینڈر پالیسی فریم ورک، صنفی حساس بجٹ سازی، اور احساس و بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے خواتین کی معاشی شمولیت—کو بھی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔


ای یو وفد نے پاکستان کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے بعض شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً ڈیٹا انضمام، بین الصوبائی ہم آہنگی، قانون پر عمل درآمد، اور 27 بنیادی اقوام متحدہ کنونشنز کے تقاضوں کی تکمیل سے متعلق معاملات پر۔ حکومتی عہدیداروں نے یقین دلایا کہ پاکستان ان نکات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھا رہا ہے اور جاری جائزہ، جو 2022 سے جاری ہے، مستقبل میں جی ایس پی پلس کی توسیع کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ اس تناظر میں جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل و گارمنٹس، کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کرتے ہوئے ملکی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی