ماسکو میں ایس سی او سی ایچ جی اجلاس پاکستان کے مؤقف، تعاون اور علاقائی تعلقات کا نیا مرحلہ.
ماسکو میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کے ہیڈز آف گورنمنٹ اجلاس علاقائی تعاون میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار کر رہے ہیں، جو اس موقع پر علاقائی اور عالمی مسائل کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطہ سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، پاکستان کی شرکت علاقائی ممالک کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مسائل پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اجلاس اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایس سی او ایسا پلیٹ فارم ہے جو سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی اور سیاحت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ان شعبوں میں مؤثر انداز میں شمولیت نہ صرف قومی مفاد کے مطابق ہے بلکہ اس سے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کیا جانے والا مؤقف پاکستان کی علاقائی ترقی میں کردار کو واضح کرے گا اور ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں گے جو پورے خطے کو فائدہ پہنچا سکیں۔ غیرجانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس اس پلیٹ فارم کے ذریعے سفارتی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر اپنی استعداد بڑھانے کا موقع موجود ہے۔
یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں پاکستان اور بھارت دونوں کی شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ماضی قریب میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ رواں برس کی سابقہ جھڑپوں اور بعد ازاں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، ایس سی او جیسے فورمز دونوں ممالک کے لیے براہِ راست یا بالواسطہ سفارتی رابطوں کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ اس اجلاس سے فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی، تاہم اس نوعیت کے پلیٹ فارم مستقبل میں ماحول سازگار بنانے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک وسیع نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کی فعال شرکت خطے میں مثبت تعاون اور باہمی احترام کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment