پاکستان اور ملائیشیا: تعلقات کا نیا باب — تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں اشتراک کا عہد"
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا تین روزہ سرکاری دورہ ملائیشیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک تازہ روح کی مانند دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف روایتی برادرانہ تعلقات کی تجدید ہے بلکہ عملی تعاون اور مشترکہ ترقی کے نئے دور کی شروعات بھی ہے۔ حلال گوشت کی برآمد کے 200 ملین ڈالر کے تاریخی معاہدے نے پاکستان کے زرعی اور مویشی شعبے کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ سابق سفیر منظورالحق کے مطابق، یہ معاہدہ دیہی معیشت میں سرمایہ کے بہاؤ کو تیز کرے گا اور کسانوں کے لیے منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔ اس کے علاوہ، ملائیشیا کا پاکستان کے چاول، گوشت، اور زرعی مصنوعات میں بڑھتا ہوا دلچسپی کا رجحان دونوں ممالک کے تجارتی توازن کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
دورے کے دوران متعدد یادداشتوں پر دستخط ہوئے جن میں اعلیٰ تعلیم، سیاحت، انسدادِ بدعنوانی، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) میں تعاون شامل ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو "لیڈرشپ اینڈ گورننس" میں اعزازی ڈاکٹریٹ کا اعزاز دیا جانا، پاکستان کی قیادت کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کا مظہر ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز خان کے مطابق، یہ MoUs دوطرفہ تعلقات کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں، خاص طور پر تعلیم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ملائیشیا کی مصنوعی ذہانت، آئی ٹی اور پائیدار ترقی کے تجربات سے سیکھ کر اپنی داخلی پالیسیاں بہتر بنائے۔
دورے کے اسٹریٹجک پہلوؤں میں پاکستان کی آسیان (ASEAN) میں شمولیت کی خواہش نمایاں رہی، جس کے لیے ملائیشیا نے کھلے عام حمایت کا اعلان کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سیاست میں خطے کی اقتصادی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ وزیرِ اعظم کے کاروباری اجلاسوں نے ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت نئے مواقع سے روشناس کروایا۔ یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض امداد کا طالب نہیں بلکہ شراکت داری اور خود انحصاری کے راستے پر گامزن ہے۔ اگر دونوں ممالک طے شدہ معاہدوں پر تسلسل کے ساتھ عمل کریں، تو یہ تعاون مستقبل میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان اقتصادی و ثقافتی ہم آہنگی کا نیا باب رقم کر سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment