پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں نئی راہیں

قازقستان کے سفیر یرزہان کسٹافن نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے چھ نکاتی فریم ورک پر بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی صلاحیت 14 ارب ڈالر تک ہے، اور اس ہدف کے حصول کے لیے موجودہ ماہ میں مختلف شعبوں جیسے آئی ٹی، زراعت، تعلیم، دفاع، تجارت اور سیاحت میں مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوں گے۔ سفیر نے مزید کہا کہ گوادار پورٹ کو مستقبل میں شمال-جنوب کوریڈور اور مڈل کوریڈور منصوبوں سے جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں، جو خطے میں تجارتی امکانات کو مزید وسعت دیں گی۔


سفیر کسٹافن نے قازقستان کے صدر کاسیم جومارت توقایف کے آئندہ نومبر میں پاکستان کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق صدر توقایف نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایک قومی روڈ میپ پیش کیا ہے، جس کے تحت قازقستان آئندہ تین برسوں میں ڈیجیٹل اسٹیٹ میں تبدیل ہونے کی کوشش کرے گا۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کسٹمز کے نظام میں بہتری، کھیل، تعلیم اور ثقافت میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشت اور تعلقات مزید مستحکم ہوسکتے ہیں۔


یہ بات واضح ہے کہ قازقستان اور پاکستان دونوں اہم جغرافیائی حیثیت کے حامل ممالک ہیں، اور ان کا تعاون وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور یورپی یونین سمیت کئی خطوں کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں ممالک کس حد تک مؤثر اقدامات اٹھاتے ہیں۔ اگر یہ منصوبے بروقت اور شفاف انداز میں مکمل ہوتے ہیں تو نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی معیشت بھی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوسکے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی