ایران کے دعوے اور جوہری کشیدگی کی نئی جہت-

ایران کی جانب سے اسرائیلی جوہری رازوں کے مبینہ انکشافات کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی طاقتیں تہران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پرانی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ ایرانی انٹیلی جنس کے مطابق، اسے اسرائیل کی جوہری تنصیبات سے متعلق حساس اور اسٹریٹجک معلومات کا بڑا ذخیرہ حاصل ہوا ہے، جسے جلد منظرعام پر لایا جائے گا۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام عالمی توجہ ایران کے جوہری پروگرام سے ہٹانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی شدید نگرانی اور دباؤ کا شکار ہے۔


اس پیش رفت نے ویانا میں ہونے والے عالمی جوہری ادارے (IAEA) کے اجلاس کو مزید اہم بنا دیا ہے، جہاں یورپی ممالک ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 400 کلوگرام یورینیم کو 60 فیصد خالص درجے تک افزودہ کر لیا ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے۔ اگرچہ ایران اس اقدام کو دفاعی اور خودمختاری سے جڑا ہوا قرار دیتا ہے، لیکن یورپی بیانیہ اسے جوہری معاہدے کی روح کے خلاف سمجھتا ہے، جس کی بنیاد 2015 کے معاہدے پر تھی۔


ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکی اور امریکہ کے ساتھ جاری مذاکراتی تعطل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ لاگو ہوئیں تو نہ صرف ایران کی معیشت کو دھچکا لگے گا بلکہ خطے میں عسکری کشیدگی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔ اس پورے تناظر میں روس کی ثالثی کی پیشکش اور امریکہ و ایران کے درمیان ممکنہ سمجھوتے کی کوششیں موجود ہیں، لیکن اعتماد کی کمی اور سیاسی مفادات کی جنگ ایک پائیدار حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی