سوات کا سانحہ: قدرتی آفت یا انسانی غفلت؟
سوات دریا میں اٹھارہ سیاحوں کے بہہ جانے کا واقعہ نہ صرف ایک قومی المیہ ہے بلکہ اس نے ملک میں قدرتی آفات کے مقابلے میں انتظامی تیاریوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دفعہ 144 پہلے سے نافذ تھی اور وارننگ سائنز بھی موجود تھے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے بیانات کے مطابق، نہ صرف ریسکیو ٹیمیں دیر سے پہنچیں بلکہ ان کے پاس مناسب ساز و سامان بھی موجود نہ تھا۔
یہ سانحہ ایک مرتبہ پھر ظاہر کرتا ہے کہ صرف قانون نافذ کرنا یا انتباہی پیغامات دینا کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کے لیے مؤثر نظام، تربیت یافتہ عملہ، اور مقامی آبادی و سیاحوں کو بروقت معلومات فراہم کرنا بھی یکساں ضروری ہے۔ اگر دریا کے قریب موجود افراد کو سیلاب کے خطرے سے مؤثر طریقے سے آگاہ کیا جاتا یا انہیں وہاں جانے سے روکا جاتا، تو شاید کئی جانیں بچائی جا سکتیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم اس واقعے کو صرف ایک افسوسناک حادثہ کہہ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ اس سے سبق سیکھ کر قدرتی آفات سے نمٹنے کے موجودہ طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیں۔ ایک منظم، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیق نہ صرف ذمہ داران کا تعین کرے گی، بلکہ مستقبل میں ایسی تباہیوں کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سانحے میں جان کی قیمت پر جو سبق ملا ہے، اسے ضائع نہ ہونے دینا ہی بہتر خراجِ عقیدت ہوگا۔
Comments
Post a Comment