خلیجی ریاستوں میں حالیہ کشیدگی اور غیرملکی کارکنوں کی بدلتی سوچ-
خلیجی ممالک طویل عرصے سے غیرملکی کارکنوں کے لیے معاشی خوشحالی، سیکیورٹی اور سہولتوں کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ قطر میں حالیہ میزائل حملوں کے بعد پہلی بار ایسے غیرملکی کارکن، جنہوں نے کبھی جنگ یا حملے کا سامنا نہیں کیا، ایک حقیقی خطرے سے دوچار ہوئے۔ اگرچہ زیادہ تر میزائل دفاعی نظام نے تباہ کر دیے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن دوحہ جیسے پُرامن شہر میں دھماکوں کی آواز نے کئی لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ خاص طور پر وہ افراد جو نئے آئے ہیں، انہوں نے حالات کو خاصی تشویش سے دیکھا۔
اس کے باوجود زیادہ تر غیرملکیوں نے جذباتی ردعمل کے بجائے عملی رویہ اپنایا۔ پرانے اور تجربہ کار افراد نے اسے وقتی صورتحال سمجھ کر خود کو سنبھالا، جبکہ سوشل میڈیا پر سفر، سیکیورٹی اور چھٹیوں کے متاثر ہونے پر زیادہ گفتگو ہوتی رہی۔ کچھ کمپنیوں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی، جبکہ کئی افراد نے اپنے طور پر سفری منصوبے بدل ڈالے۔ فضائی سفر کی ممکنہ معطلی ان کے لیے اصل پریشانی بنی رہی۔
معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں نے مجموعی طور پر اس بحران کو وقتی قرار دیا ہے۔ توانائی کی ترسیل یا مالیاتی نظام پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا، اور جلد سیز فائر کے اعلانات نے غیر یقینی کو کچھ حد تک کم کیا۔ البتہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکن، جیسے ڈرائیورز اور سروس ورکرز، پہلے ہی معاشی دباؤ میں تھے اور اب انہیں مزید کمی کا سامنا ہے۔ خلیجی دنیا کی چمکتی تصویر میں اب احتیاط اور حقیقت پسندی کا رنگ بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment