ہانیہ عامر کی موجودگی پر خوشی، سیاست سے بالاتر فن کی پہچان۔

 

*سردار جی 3* کے ٹریلر نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ہانیہ عامر فلم کا ایک نمایاں اور مرکزی حصہ ہیں۔ گزشتہ ہفتوں میں بھارتی فلم انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور پاک-بھارت کشیدگی کے باعث شکوک و شبہات پیدا ہو چکے تھے کہ آیا ہانیہ کا کردار برقرار رہے گا یا نہیں۔ تاہم، دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ان کی جوڑی اور نمایاں موجودگی نے ان افواہوں کو غلط ثابت کیا، جس پر پاکستانی شوبز انڈسٹری نے فخر کا اظہار کیا — لیکن کسی جذباتی شدت کے بجائے ایک متوازن اور پیشہ ورانہ رویہ اپناتے ہوئے۔


پاکستانی فنکاروں نے اس موقع کو صرف خوشی کی علامت ہی نہیں بلکہ فن کی جیت کے طور پر دیکھا۔ یاسر حسین، انوشے اشرف، زارا نور عباس اور دیگر نے سوشل میڈیا پر نہ صرف ہانیہ کو سراہا بلکہ یہ بھی یاد دلایا کہ وہ ایک تاریخی لمحے کا حصہ بن رہی ہیں — جہاں ایک پاکستانی اداکارہ ایسے وقت میں سرحد پار مرکزی کردار ادا کر رہی ہے جب ثقافتی تبادلہ تناؤ کا شکار ہے۔ ان کی حمایت جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ اس حقیقت پر مبنی تھی کہ ہانیہ کی موجودگی پیشہ ورانہ قابلیت کا ثبوت ہے، نہ کہ کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ۔


دلجیت دوسانجھ کی جانب سے فلم کی "اوورسیز ریلیز" کا فیصلہ ایک عملی اور سمجھدار حکمت عملی معلوم ہوتا ہے۔ بھارت میں ریلیز نہ ہونے کے باوجود، فلم اپنے ہدفی بین الاقوامی ناظرین تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک یاددہانی ہے کہ فن اور تخلیقی اظہار کو سرحدوں سے قید نہیں کیا جا سکتا۔ ہانیہ عامر کی موجودگی نہ صرف پاکستانی ٹیلنٹ کی عالمی سطح پر نمائندگی ہے، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ جب فنکار اپنی کارکردگی سے بولتے ہیں، تو سیاسی شور دب سا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی