مشرقِ وسطیٰ کا بگڑتا منظرنامہ: جوہری تنصیبات، میزائل حملے اور بین الاقوامی اداروں پر اعتماد کا بحران-
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں چار مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں سوروکا اسپتال بھی شامل ہے، جبکہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے اراک ہیوی واٹر نیوکلئیر ری ایکٹر کو ہدف بنایا گیا۔ ان واقعات نے علاقائی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے، اگرچہ اس مضمون کا مقصد کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ حالات کی پیچیدگی کو اجاگر کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) پر جانبداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ادارے کی مبینہ غیر منصفانہ رپورٹنگ نے اسرائیل کو حملے کا 'جواز' فراہم کیا۔ دوسری طرف، IAEA کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی منظم منصوبہ موجود نہیں۔ اس تضاد نے نہ صرف ایران میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اداروں کی غیر جانبداری اور ساکھ کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے ہیں، خاص طور پر ان ممالک میں جو طویل عرصے سے یکطرفہ بیانیوں کا شکار رہے ہیں۔
انسانی نقصان کی بات کی جائے تو صورتحال تشویشناک ہے۔ ایران میں اسرائیلی حملوں سے 240 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ایران کے حملوں میں اسرائیل میں 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں جاری جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار کے درمیان جو بات سب سے زیادہ نظرانداز ہو رہی ہے، وہ ہے انسانی جان کی حرمت اور امن کے امکانات۔ دنیا بھر کی نظریں اب ان عالمی اداروں اور طاقتور ریاستوں پر ہیں، جنہیں نہ صرف بیانات سے بلکہ عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انسانیت اب بھی ان کے ایجنڈے میں کہیں موجود ہے۔
Comments
Post a Comment