مردوں کے فیشن پر عتیقہ اوڈھو کی تنقید: تفریح کے پردے میں سنجیدہ پیغام-


اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے حالیہ گفتگو کے دوران ڈرامہ "دستک" میں اداکار علی رضا کے اندازِ لباس پر تبصرہ کر کے ایک دلچسپ لیکن اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین پر لمبی آستینیں پہننے اور مخصوص لباس اپنانے کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، تو پھر مرد اداکاروں کے لیے بھی کچھ حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ علی رضا کی نیم کھلی قمیص اور اس سے جھلکتی چھاتی کے بالوں پر ان کی ہلکی پھلکی تنقید نے ناظرین کو مسکرانے کے ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔


عتیقہ اوڈھو نے واضح کیا کہ وہ جدید یا جرات مند فیشن کے خلاف نہیں، مگر ان کا ماننا ہے کہ خاص طور پر فیملی ڈراموں میں کچھ اصولوں کا لحاظ ضروری ہے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں علی رضا کو ویکسنگ کا مشورہ دے کر ماحول کو ہلکا ضرور رکھا، لیکن ان کا پیغام واضح تھا: اسکرین پر پیش کیے جانے والے کردار اور انداز ناظرین کی توقعات اور ثقافتی حساسیت کا خیال رکھتے ہوئے ہونے چاہییں۔ ان کی اس رائے کو معروف اداکارہ مارینا خان کی حمایت بھی حاصل ہوئی، جنہوں نے یاد دلایا کہ ایسے فیشن پہلے بھی اداکار شمون عباسی سمیت دیگر مرد فنکاروں کے ذریعے دیکھے جا چکے ہیں۔


یہ گفتگو تفریحی ہونے کے باوجود ایک پرانے مگر اہم مسئلے کو سامنے لاتی ہے—شوبز انڈسٹری میں مرد و خواتین کے لیے الگ الگ معیار۔ خواتین کے لباس پر مسلسل تبصرے اور نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ مرد اکثر ان اصولوں سے مستثنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس نکتے کی حمایت کی کہ اسکرین پر شائستگی کا معیار دونوں جنسوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ عتیقہ اوڈھو کی یہ گفتگو ایک اہم یاددہانی ہے کہ تفریح کے میدان میں بھی توازن، تہذیب اور برابری کی گنجائش ضروری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی