حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ نجکاری پلان شیئر
حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ نجکاری پلان شیئر کردیا – پی آئی اے، بجلی کی کمپنیاں اور نندی پور پاور پلانٹ شام وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قومی اداروں کی نجکاری کا مکمل پلان شیئر کر دیا ہے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر مشاورت اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں، آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کرے۔
پی آئی اے کی نجکاری 2025 میں مکمل ہونے کی امید
نجکاری کمیشن حکام کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری میں حائل تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور یہ عمل اسی سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیکس واجبات اور منفی ایکویٹی سے متعلق تحفظات دور کر دیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ یورپی یونین کی پابندیوں کا خاتمہ بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازیں بحال ہو سکیں۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری: تین کمپنیاں پہلے مرحلے میں شامل
نجکاری پلان کے تحت، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنیاں پہلے مرحلے میں نجکاری کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔ ان کمپنیوں کی نجکاری کا ہدف دسمبر 2025 تک مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مالیاتی مشیر (فنانشل ایڈوائزر) بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں کن کمپنیاں شامل ہیں؟
دوسرے مرحلے میں حیدرآباد، سکھر اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنیاں شامل ہوں گی۔ ان اداروں کی نجکاری کا عمل 2026 میں مکمل کیا جائے گا۔
نندی پور پاور پلانٹ اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری
نجکاری کمیشن کے مطابق، نندی پور پاور پلانٹ کی نجکاری جنوری 2026 میں شیڈول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر پر کام جاری ہے۔
رائٹ سائزنگ کا عمل کب مکمل ہوگا؟
رپورٹس کے مطابق، تمام اداروں میں رائٹ سائزنگ (Right Sizing) کا عمل دسمبر 2025 تک مکمل کر لیا جائے گا، تاکہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

Comments
Post a Comment