آپریشن بنیانِ مرصوص – پاکستان کی جوابی حکمتِ عملی
تعارف:
بھارت کی جانب سے "آپریشن سندور" کے بعد پاکستان نے نہایت متوازن لیکن مضبوط ردعمل کا فیصلہ کیا۔ اس دفاعی حکمت عملی کو پاک فوج نے "آپریشن بنیانِ مرصوص" کا نام دیا، جس کا مطلب ہے "مضبوط دیوار"۔ اس آپریشن کا مقصد ملکی سرحدوں کا مکمل دفاع، بھارتی حملوں کا موثر جواب، اور کشمیری عوام کی حمایت کا اظہار تھا۔
🔹 آپریشن کے اہم نکات:
-
ہائی الرٹ: پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مکمل ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
-
نقطہ وار دفاع: لائن آف کنٹرول پر دفاعی مورچوں کو مضبوط کیا گیا اور فوجی تعیناتی بڑھا دی گئی۔
-
ردعمل کی تیاری: اگر بھارت کی طرف سے دوبارہ کوئی جارحانہ اقدام کیا جاتا، تو اس کا فوری جواب تیار رکھا گیا۔
-
ڈپلومیٹک فرنٹ: دنیا کو باور کرایا گیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا مگر پہل نہیں کرے گا۔
🔹 فضائی طاقت کا مظاہرہ:
پاکستان ائیرفورس نے مختلف حساس علاقوں میں فضا میں گشت شروع کیا۔ رات کے وقت بھی جنگی طیاروں کی پروازوں کا مقصد دشمن کو واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان چوکنا ہے۔
🔹 لائن آف کنٹرول پر جوابی کارروائی:
بھارت کی شیلنگ کے جواب میں پاک فوج نے مخصوص بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں صرف دفاعی نوعیت کی تھیں مگر انتہائی مؤثر۔
🔹 پاکستان کا عالمی موقف:
پاکستان نے اقوام متحدہ، او آئی سی، چین، ترکی، اور خلیجی ممالک کو باقاعدہ بریفنگ دی کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، مگر اگر مجبور کیا گیا تو پوری قوت سے دفاع کرے گا۔
🔹 کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی:
اس آپریشن کے دوران حکومتِ پاکستان نے 5 مئی کو "یومِ یکجہتی کشمیر" کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ ملک بھر میں ریلیاں، دعائیہ تقریبات اور یکجہتی مارچز ہوئے۔
🔹 عالمی ردعمل:
• چین نے پاکستان کے دفاعی موقف کو متوازن اور ذمہ دارانہ قرار دیا۔
• ترکی اور سعودی عرب نے دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کی۔
• امریکہ نے پاکستان کو تحمل کی تعریف کی مگر بھارت سے بھی معاملات نہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
🔹 نتیجہ:
"آپریشن بنیانِ مرصوص" نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کے لیے تیار ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی امن کا خواہاں بھی ہے۔ اس آپریشن نے بھارت کو پیغام دیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی یک طرفہ کارروائی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
Comments
Post a Comment