چین اور امریکہ کی ٹیرف وار کے اثرات: سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں


 چین اور امریکہ کی ٹیرف وار کے اثرات: سونے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی اور ٹیرف جنگ نے عالمی مارکیٹوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر سونے کی قیمتوں پر پڑا ہے۔ حالیہ دنوں میں سونا ایک مرتبہ پھر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، اور عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔

سونے کی قیمتوں میں اضافہ: عالمی منظرنامہ

پاکستان میں سونے کی قیمت میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی 17 ہزار روپے فی تولہ کا اضافہ ہوا ہے۔ خالص 24 قیراط سونا 3 لاکھ 90 ہزار روپے فی تولہ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح 22 قیراط سونا 3 لاکھ 57 ہزار 500 روپے اور 21 قیراط سونا 3 لاکھ 41 ہزار 250 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتیں بڑھ کر فی اونس 3,490 ڈالر کی بلند سطح پر ٹریڈ ہو رہی ہیں۔

چین اور امریکہ کی تجارتی کشیدگی کا اثر

چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور متوقع تجارتی پابندیوں کے اثرات عالمی مارکیٹ پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس کشیدگی کے باعث سرمایہ کار سونے کی طرف رخ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے سرمایہ کو محفوظ رکھ سکیں۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر عالمی صورتحال اسی طرح برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں مہنگائی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

سونا: محفوظ سرمایہ کاری کی علامت

دنیا بھر میں سونا ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری کی علامت بن چکا ہے۔ خاص طور پر امریکہ میں سیاسی اور مالیاتی بے یقینی کے سبب، سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو برطرف کرنے کی قیاس آرائیاں عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے سونا ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ فی اونس 3,482.26 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ اس دوران سونے کی قیمت 3,494.66 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح کو بھی چھو چکی ہے۔

بھارت میں سونے کی قیمتیں اور اثرات

بھارت میں بھی سونے کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں، جہاں 1 لاکھ 10 ہزار 440 بھارتی روپے فی تولہ کا نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے۔ پاکستان میں فی تولہ سونا تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار روپے کا ہے، لیکن بھارت میں سونا پاکستان سے بھی مہنگا ہو چکا ہے۔ اس اضافہ نے بھارتی متوسط طبقے خاص طور پر گھریلو خواتین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جو روایتی طور پر سونے کو اپنی مالی سلامتی کا ضامن سمجھتی ہیں۔ خاص طور پر ہندو تہوار "اکشے ترتیہ" کے قریب آتے ہی، جب سونے کی خریداری کو شگون سمجھا جاتا ہے، یہ قیمتیں عوامی توقعات پر پانی پھیر سکتی ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق، امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کے اثرات سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ مالیاتی ماہر ٹیم واٹرا نے کہا ہے کہ "ٹرمپ اور پاول کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور تجارتی پالیسیوں کے باعث امریکی اثاثے غیر یقینی کا شکار ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار ڈالر، اسٹاک اور بانڈز سے نکل کر سونے کی طرف رخ کر رہے ہیں۔"

نتیجہ

چین اور امریکہ کی ٹیرف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام کو ہلچل میں مبتلا کر دیا ہے، اور سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ اور اس کی عالمی سطح پر مقبولیت، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ اگر موجودہ عالمی سیاسی اور اقتصادی صورتحال برقرار رہی، تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر پاکستان اور بھارت کی مقامی مارکیٹوں میں بھی نظر آئے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی