شاہ محمود قریشی پر شک؟

 




عام طور پر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں ہر کوئی عمران خان سے ملاقات کر لیتا ہے، مگر تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے کسی ملاقاتی کا ذکر سننے کو نہیں ملتا۔ نہ پارٹی چیئرمین اور نہ ہی ان کے مقرر کردہ رہنما یا وکلا کبھی ان کا نام لیتے ہیں۔

موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کا نہ مقتدر حلقوں سے کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کی قیادت انہیں اہمیت دے رہی ہے۔ 9 مئی کے بعد سے وہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور یاسمین راشد مسلسل قید میں ہیں، لیکن کسی بھی بڑے پارٹی فیصلے میں ان سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔ بظاہر ان کا عمران خان یا تحریک انصاف سے کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔

قریشی صاحب نے ہر پارٹی فیصلے کو قبول کیا، کوئی علیحدہ گروپ نہیں بنایا، مقتدرہ سے معافی نہیں مانگی اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت حاصل کی، مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو ان پر کوئی نہ کوئی شبہ ضرور ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ شاہ محمود قریشی کے خاندانی پس منظر کو دیکھتے ہوئے ان کی سیاسی وفاداری پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر آئی جے آئی سے شروع ہوا، پھر وہ نواز شریف کی جماعت میں شامل ہو کر پنجاب کابینہ کا حصہ بنے۔ ان کے والد، سجاد قریشی، جنرل ضیاءالحق کے دور میں گورنر پنجاب رہے۔ بعد میں انہوں نے ن لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور بینظیر بھٹو نے انہیں وفاقی وزیر بنا دیا۔

مشرف دور میں وہ بظاہر پیپلز پارٹی میں رہے، مگر پس پردہ جنرل مشرف سے رابطے بھی رکھتے تھے۔ بعد میں، پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ بنے، لیکن یوسف رضا گیلانی سے اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور جنرل پاشا کی مدد سے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ عمران خان کی حکومت میں وہ دوبارہ وزیر خارجہ بنے اور سائفر معاملے میں پیش پیش رہے۔

ان سب کے باوجود، پارٹی میں یہ تاثر عام ہے کہ اگر کسی دن متبادل قیادت کی ضرورت پڑی تو شاہ محمود قریشی کو آگے لایا جا سکتا ہے۔ اس شک و شبے کی وجہ ان کا ماضی میں کئی بار پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنا، مقتدر حلقوں سے تعلقات اور ان کا سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ پنجاب اور سندھ کے جاگیردار گھرانوں سے ان کے قریبی تعلقات اور مختلف انتخابی حلقوں میں ان کی مضبوط گرفت بھی انہیں ایک ممکنہ قیادت کے طور پر پیش کرتی ہے۔

تاہم، تحریک انصاف کی اندرونی سیاست میں یہی عوامل ان کے خلاف جاتے ہیں۔ پارٹی کے اندر ان کے خلاف یہ بیانیہ بنایا گیا ہے کہ اگر وہ زیادہ طاقتور ہو گئے تو عمران خان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، قریشی صاحب نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیے رکھا ہے اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

ملتان کے قریشی خاندان کی تاریخ میں بھی کئی تنازعات رہے ہیں۔ ان پر 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی حمایت کا الزام بھی لگایا جاتا ہے، جب کہ سکھوں کے خلاف لڑنے میں ان کا کردار بھی تاریخی رہا ہے۔

آج شاہ محمود قریشی کا المیہ یہ ہے کہ قربانیاں دینے کے باوجود عمران خان اور ان کے حامی ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ اگر انہیں موقع دیا جاتا، تو شاید وہ کوئی سیاسی راستہ نکال سکتے تھے۔ ان کے پاس سیاسی جوڑ توڑ کا وسیع تجربہ ہے اور وہ اے آر ڈی میں بھی سرگرم رہے ہیں۔

تحریک انصاف ایک مقبول جماعت ضرور ہے، مگر ریاستی ادارے اسے قبول نہیں کر رہے اور پارٹی کی موجودہ قیادت میں بھی ایسا کوئی فرد موجود نہیں جو معاملات کو معمول پر لانے کی مہارت رکھتا ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ قیادت یا تو عمران خان کو جیل سے نکالنے میں ناکام رہی ہے یا پھر جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہی، کیونکہ اگر عمران خان باہر آ گئے تو موجودہ قیادت کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ اب جب کہ دیگر تمام چالیں ناکام ہو چکی ہیں، شاید وقت آ گیا ہے کہ شاہ محمود کارڈ بھی آزما لیا جائے۔


Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی