پاکستان میں پرنس کریم آغا خان کی آخری رسومات کے موقع پر یومِ سوگ منانے کا اعلان

 


پاکستان میں پرنس کریم آغا خان کی آخری رسومات کے موقع پر یومِ سوگ منانے کا اعلان

اسلام آباد: (6 فروری 2025) پاکستان میں ہفتہ، 8 فروری 2025 کو پرنس کریم آغا خان چہارم کی آخری رسومات کے موقع پر یومِ سوگ منایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سطح پر سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پرنس کریم آغا خان "پاکستان کے سچے دوست" تھے اور ان کی عالمی ترقی، تعلیم، صحت اور انسانی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

قومی پرچم سرنگوں رہے گا

کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی پرچم 8 فروری کو پورے ملک میں سرنگوں رہے گا۔ یہ اقدام پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کے اظہار کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

آخری رسومات اور تدفین

آغا خان چہارم کی آخری رسومات 8 فروری کو لزبن، پرتگال میں اسماعیلی کمیونٹی سینٹر میں ادا کی جائیں گی۔

  • یہ ایک نجی تقریب ہوگی، جس میں سینکڑوں مہمان شرکت کریں گے۔
  • بعد ازاں، 9 فروری کو انہیں مصر کے شہر اسوان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا اظہار تعزیت

وزیراعظم شہباز شریف نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں پرنس کریم آغا خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ:

"آغا خان ایک سچے دوست تھے جنہوں نے اپنی بصیرت اور قیادت سے لاکھوں زندگیوں کو روشن کیا۔ ان کی تعلیم، صحت اور فلاحی کاموں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔"

گلگت بلتستان حکومت کا تین روزہ سوگ

قبل ازیں، گلگت بلتستان حکومت نے بھی پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا۔ گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں اسماعیلی کمیونٹی آباد ہے جو آغا خان کی رہنمائی اور خدمات کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

پرنس کریم آغا خان کی زندگی اور خدمات

پرنس کریم آغا خان IV، جو اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں روحانی پیشوا تھے، 88 سال کی عمر میں لزبن، پرتگال میں انتقال کر گئے۔ ان کا شمار دنیا کے بڑے فلاحی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

ابتدائی زندگی

  • پیدائش: 13 دسمبر 1936، جنیوا، سوئٹزرلینڈ
  • بچپن کا کچھ حصہ نئیروبی، کینیا میں گزارا
  • ہارورڈ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں تعلیم حاصل کی

روحانی قیادت اور فلاحی کام

1957 میں اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان کے انتقال کے بعد، 20 سال کی عمر میں اسماعیلی کمیونٹی کے امام بنے۔

  • 1967 میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) قائم کیا، جو تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں خدمات انجام دیتا ہے۔
  • افریقہ اور ایشیا کے غریب ترین علاقوں میں 80,000 افراد کو روزگار فراہم کرنے والے فلاحی منصوبے چلائے۔
  • کئی اسلامی ممالک میں اسپتال، اسکول، اور بجلی کی فراہمی کے منصوبے مکمل کیے۔

دنیا بھر میں عزت و احترام

پرنس کریم آغا خان کو دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی، تعلیم، اور ترقیاتی کاموں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باعث قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ معروف امریکی میگزین وینٹی فیئر نے 2013 میں ان کے بارے میں لکھا:

"وہ ان چند شخصیات میں سے ہیں جو روحانیت اور مادیت، مشرق و مغرب، اور مسلم و عیسائی دنیا کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔"

نتیجہ

پاکستانی حکومت کی جانب سے پرنس کریم آغا خان کی آخری رسومات کے موقع پر یومِ سوگ منانے کا اعلان ان کی پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف کا مظہر ہے۔ ان کی فلاحی خدمات، تعلیمی اصلاحات، اور بین الاقوامی ترقی کے لیے کی گئی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی