ارمغان کے گھر سے دو کرپٹو مائننگ مشینیں برآمد

 




ارمغان کے گھر سے دو کرپٹو مائننگ مشینیں برآمد

تحقیقات میں بڑے مالیاتی فراڈ اور کرپٹو کرنسی کے استعمال کا انکشاف

کراچی پولیس نے مصطفیٰ عامر قتل و اغوا کیس کی تحقیقات کے دوران ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں واقع مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے دو کرپٹو مائننگ مشینیں برآمد کر لیں۔ تفتیشی افسران کے مطابق، ان مشینوں کی تخمینی مالیت تقریباً 2 ارب روپے ہے۔

کال سینٹر کے ذریعے غیر قانونی رقم کی ترسیل

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ارمغان غیر قانونی کال سینٹر چلا رہا تھا، جس سے حاصل ہونے والی رقم وہ اپنے امریکہ میں مقیم کزن کو بھیجتا تھا۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ارمغان کا کزن ایک ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈر تھا، جو اس رقم کو ارمغان کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹ میں منتقل کرتا تھا۔

جعلی رقوم سے کرپٹو کرنسی کی خریداری

حکام کے مطابق، ارمغان نے دھوکہ دہی کے ذریعے کمائی گئی رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا۔ اس مقصد کے لیے، وہ جعلی مرچنٹ اکاؤنٹس استعمال کر رہا تھا، جن کے ذریعے لاکھوں ڈالرز کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ ملزم 2017 سے اب تک کروڑوں ڈالرز کی رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر چکا ہے، جسے وہ بعد میں مختلف ورچوئل کارڈز میں منتقل کرتا تھا۔ ان کارڈز کے ذریعے اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالی جاتی تھی، جس سے اس غیر قانونی عمل کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا تھا۔

پولیس کارروائی اور کیس کا انکشاف

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کراچی پولیس کے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) نے رواں ماہ ارمغان کے گھر پر چھاپہ مارا، جس کے دوران ملزم نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔

قبل ازیں، 12 جنوری کو حب چیک پوسٹ کے قریب ایک گاڑی سے مصطفیٰ عامر کی لاش برآمد ہوئی تھی، جسے بعد میں ایدھی فاؤنڈیشن نے دفنا دیا۔ بعد ازاں، ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہوا کہ یہ لاش مصطفیٰ عامر کی تھی، جس کے بعد اسے دوبارہ نکال کر باضابطہ تدفین کی گئی۔

عدالتی کارروائی اور جسمانی ریمانڈ میں توسیع

انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے گزشتہ روز ارمغان اور شریک ملزم شیراز بخاری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی۔

پراسیکیوشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس کی حساسیت کے پیش نظر مزید تفتیش ضروری ہے، جبکہ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ وہ لڑکی، جسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

ملزم کے الزامات اور عدالت کا ردعمل

عدالتی کارروائی کے دوران، ارمغان نے شکایت کی کہ اسے غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسے کھانے سے محروم رکھا گیا ہے اور دس دنوں سے واش روم جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

عدالت نے ان دعوؤں کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’اگر کسی کو دس دن تک بیت الخلا جانے کی اجازت نہ دی جائے تو وہ کھڑا بھی نہیں رہ سکتا۔‘‘

مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل

پولیس نے اس ہائی پروفائل کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے، جس کی قیادت کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) مقدس حیدر کر رہے ہیں۔

ارمغان کے والدین کو ملاقات کی اجازت

عدالت نے ارمغان کے والدین کو اس سے ملاقات کی اجازت دے دی، لیکن ساتھ ہی ہدایت دی کہ اگر ملاقات کے دوران کوئی بدنظمی ہوئی تو فوری طور پر رپورٹ دی جائے۔

یہ کیس نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں عوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور پولیس مزید تحقیقات کے ذریعے اس کے ممکنہ بین الاقوامی روابط اور منی لانڈرنگ کے پہلوؤں پر بھی غور کر رہی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی