بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل

 



بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل

ایم این اے بلال اظہر کیانی کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی میں مختلف وزارتوں کے ایڈیشنل سیکریٹریز اور جوائنٹ سیکریٹری شامل


ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ہدایات کے تحت بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے افعال اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی کر رہے ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیٹی میں مختلف وزارتوں کے ایڈیشنل سیکریٹریز اور انسٹیٹیوشنل ریفارمز سیل کے جوائنٹ سیکریٹری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

پس منظر اور تشکیل

گزشتہ سال جون میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے افعال اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

کابینہ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ "بیرون ملک پاکستانی مشنز کی تنظیمِ نو کمیٹی" کو ملکی مفاد کے مطابق سفارتی مشنز کی کارکردگی کو مزید موثر اور کفایت شعار بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

کمیٹی کے ارکان

اسحاق ڈار کی قیادت میں قائم اس 12 رکنی کمیٹی میں شامل دیگر ارکان درج ذیل ہیں:

  • وفاقی وزیر مصدق ملک
  • وفاقی وزیر احد خان چیمہ
  • وفاقی وزیر جام کمال خان
  • وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی
  • وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک
  • رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی
  • ڈاکٹر فرخ سلیم
  • سیکریٹری کامرس
  • سیکریٹری اقتصادی امور
  • سیکریٹری خارجہ
  • سیکریٹری کابینہ ڈویژن

کمیٹی کے مقاصد اور دائرہ کار

کمیٹی کے ٹی او آرز (Terms of Reference) درج ذیل ہوں گے:

  1. بیرون ملک موجود پاکستانی سفارتی مشنز کی تعداد اور سائز کا تجزیہ، ان کے افعال، ضروریات، اور ملکی معاشی و سماجی فوائد کے تناظر میں جائزہ لینا۔
  2. سفارتی مشنز کی تنظیمِ نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنا۔
  3. سفارتی مشنز کے موجودہ نظام کا جائزہ لے کر ان کے مستقبل کے کردار اور ملکی مفاد میں ان کے بہتر استعمال کے لیے تجاویز پیش کرنا۔
  4. سفارتی مشنز کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اقدامات تجویز کرنا، بشمول ان کی داخلی ساخت اور کارکردگی کے لیے مخصوص قابلِ پیمائش اہداف مقرر کرنا۔
  5. کوئی بھی دوسرا متعلقہ معاملہ جو کمیٹی کے دائرہ کار میں آتا ہو۔
  6. کمیٹی ضرورت کے مطابق مزید ارکان کو شامل کر سکتی ہے۔

رپورٹ کی پیشکش اور معاونت

نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سفارشات 30 دن کے اندر وزیر اعظم کو پیش کرے۔

مزید برآں، "کابینہ ڈویژن (انسٹیٹیوشنل ریفارمز سیل)" کمیٹی کو تمام ضروری سیکریٹریل معاونت فراہم کرے گا۔


Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی