پاکستان کا اقوام متحدہ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

 



پاکستان کا اقوام متحدہ میں افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم کا خطاب

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا:
🔹 "داعش، تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور مجید بریگیڈ کا خطرہ نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ہمیں افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کو سنجیدگی سے حل کرنا ہوگا۔"

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، خاص طور پر افغان طالبان کے کابل پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد۔


پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں خطرناک اضافہ

📌 پاکستان میں جنوری 2025 میں دہشت گردی کے حملوں میں 42% اضافہ ہوا (ماہ دسمبر کے مقابلے میں) – PICSS رپورٹ
📌 ملک بھر میں 74 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے، جن میں 91 افراد جاں بحق ہوئے
📌 ہلاک ہونے والوں میں 35 سیکیورٹی اہلکار، 20 عام شہری اور 36 دہشت گرد شامل
📌 117 افراد زخمی، جن میں 53 سیکیورٹی اہلکار، 54 شہری اور 10 دہشت گرد شامل

📍 سب سے زیادہ متاثرہ علاقے:
خیبر پختونخوا (KP):

  • 27 حملے، 19 افراد جاں بحق (11 سیکیورٹی اہلکار، 6 شہری، 2 دہشت گرد)
  • قبائلی اضلاع میں 19 حملے، 46 اموات (13 سیکیورٹی اہلکار، 8 شہری، 25 دہشت گرد)
    بلوچستان:
  • 24 حملے، 26 افراد جاں بحق (11 سیکیورٹی اہلکار، 6 شہری، 9 دہشت گرد)

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی سرگرمیاں

🌍 منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بتایا کہ:
داعش کو دنیا کے دیگر ممالک میں دبایا گیا، لیکن افغانستان میں اس کے نیٹ ورکس مزید متحرک ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں 24 سے زائد دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں، جو داعش کی بھرتی اور منصوبہ بندی میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ہم کسی بھی الزام کو مسترد کرتے ہیں کہ پاکستان میں داعش کی بھرتی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔


عالمی برادری سے مطالبہ اور اقوام متحدہ کا کردار

🛑 پاکستان کے سفیر نے اقوام متحدہ سے درج ذیل مطالبات کیے:
دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک ذیلی ادارہ (Subsidiary Body) قائم کیا جائے، جو دہشت گردی کے عالمی انسداد کے منصوبوں کی نگرانی کرے۔
اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق پابندیوں (Sanctions Regime) میں تبدیلیاں کی جائیں تاکہ یہ زیادہ مؤثر اور منصفانہ ثابت ہوں۔
نئی اور ابھرتی ہوئی دہشت گردی کی شکلوں کو مدنظر رکھا جائے، جیسے:

  • سفید فام انتہا پسندی (White Supremacy)
  • شدت پسند دائیں بازو کے گروہ (Far-Right Extremists)
  • نسلی، قومی اور مذہبی منافرت پر مبنی گروہ
  • اسلاموفوبک اور مسلم مخالف گروہ

دہشت گردی کی نئی شکلیں: سوشل میڈیا، کرپٹو کرنسی اور ڈارک ویب

🔍 منیر اکرم نے اقوام متحدہ کو متنبہ کیا کہ دہشت گرد گروہ اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
💻 ڈارک ویب: دہشت گرد تنظیمیں خفیہ کمیونیکیشن کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
💰 کرپٹو کرنسی: دہشت گردوں کی مالی معاونت اور فنڈز کی منتقلی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
📲 سوشل میڈیا: پروپیگنڈا، شدت پسندی، بھرتی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

🔹 "ہمیں ان نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔" – منیر اکرم


نتیجہ: پاکستان دہشت گردی کے خلاف پرعزم

✅ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے۔
داعش، ٹی ٹی پی اور مجید بریگیڈ کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔
✅ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

📌 پاکستان نے اقوام متحدہ میں واضح موقف اختیار کیا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے مسئلے پر دوہرا معیار نہیں اپنانا چاہیے، بلکہ عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔



Comments

Popular posts from this blog

زمبابوے کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کی شاندار شروعات-

سوڈان میں اخوان المسلمون: مذہب کے نام پر سیاست کا انجام

ابراہیم معاہدوں کا پہلا بڑا امتحان: ایرانی حملے اور امریکی خاموشی